لاہور: کپتان قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم سلمان علی آغا نے کہا ہے کہ ورلڈکپ سے پہلے اسکواڈ میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں دیکھ رہا۔
سلمان علی آغا نے پی سی بی پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سال میں سب سے زیادہ 58-57 میچز کھیلے ہیں اس لیے فی الوقت آرام کر رہا ہوں، جنوری سے اپریل تک بہت زیادہ کرکٹ ہے اس لئے اپنے آپ کو ترو تازہ رکھنا چاہتا ہوں۔
ایشز کی تاریخ میں آسٹریلوی بیٹرز نے منفرد ریکارڈ قائم کر دیا
سلمان علی آغا لیگ کرکٹ نہ کھیلنے کا فیصلہ خود کیا، ڈومیسٹک ون ڈے کپ کھیلوں گا، انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں پریشر زیادہ ہوتا ہے، صحیح راستے پر گامزن ہیں امید ہے کہ جلد نمبر ون ٹیم بن جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے چھ ماہ سے ورلڈکپ کو مدنظر رکھ کر تیاری کر رہے ہیں، ہمیں وہ کمبینیشن مل گیا ہے جس کی ہمیں تلاش تھی، ان کا کہنا تھا کہ ورلڈکپ سے پہلے اسکواڈ میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں دیکھ رہا۔
سلمان علی آغا نے کہا کہ ہم نے پچھلے چھ ماہ ان کھلاڑیوں کو آزمایا ہے اور ان کے رولز واضح کئے ہیں، ورلڈکپ سے پہلے چھ میچز میں ان ہی کھلاڑیوں کو موقع دینا چاہیے، ایسا کرنے سے کھلاڑی کو اعتماد ملے گا اور اچھی پرفارمنس آئے گی۔
انہوں نے بابراعظم کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ میرے بہت اچھے دوست ہیں، بابر اعظم کو کبھی سمجھانے کی ضرورت نہیں پڑی، بابر کو پتا ہوتا ہے کہ وہ کہاں غلط ہیں۔
سلمان علی آغا نے کہا کہ بابر اعظم نے پچھلے سات آٹھ سالوں میں پاکستان کیلئے بہترین پرفارمنس دی ہے، آخری دو تین سالوں میں ان سے وہ پرفارمنس نہیں ہوئی جو فینز چاہتے تھے، بابر اعظم سب کی بات سنتے ہیں چاہے وہ جونیئر کھلاڑی بھی کیوں نہ ہو۔
جوروٹ نے اسد شفیق کا 9 سال قبل بنایا گیا ریکارڈ توڑ دیا
انہوں نے کہا کہ ہم ایک دوسرے سے بطور دوست بات کرتے ہیں کبھی کپتانی بیچ میں نہیں لائے، جب میری پرفارمنس نہیں تھی تو بابر اعظم نے مجھے سمجھایا۔
کپتان ٹی ٹی ٹوئنٹی ٹیم سلمان علی آغا نے کہا کہ ایشیا کپ کے بعد جنوبی افریقہ ٹیسٹ سیریز سے قبل بابر اعظم نے مجھے کہا کہ فارم آتی جاتی رہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کبھی سوچا نہیں تھا کہ سال میں 56 میچز کھیل جاؤں گا، آئندہ بھی موقع ملا تو ضرور کھیلوں گا، سلمان علی آغا نے کہا کہ پاکستان سے کھیلنا میرے لیے فخر کی بات ہے۔
سلمان علی آغا کا کہنا تھا کہ پاکستان کی نمائندگی کرنے کیلئے فٹ رہنا بہت ضروری ہے، کھلاڑیوں کو روٹیشن پالیسی کے تحت ٹیم میں شامل کیا جارہا ہے، ورلڈکپ سے پہلے سری لنکا میں سیریز بہت اہم ہے، سری لنکا میں اسپن زیادہ ہوتا ہے اور رات میں بال سوئنگ بھی ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے علاوہ نیوزی لینڈ میں کھیلنا سب سے زیادہ اچھا لگتا ہے، جنوبی افریقہ میں فینز سپورٹیو ہوتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ پائے نہاری سے زیادہ کڑاہی اور بریانی پسند ہے۔
سلمان علی آغا کا کہنا تھا کہ محمد یوسف اور مائیکل کلارک کی بیٹنگ سے متاثر ہوں، اکثر بیٹھ کر ان دونوں پلیئرز کی بیٹنگ دیکھتا ہوں۔
