بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے بھارتی حکومت کے متنازع حکم کو ماننے سے انکار کر دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایپل نے مودی سرکار کی جانب سے تمام اسمارٹ موبائل فونز میں زبردستی ایپ شامل کرنے کی ہدایت کو صاف ماننے سے انکار کر دیا۔
کمپنی کا مؤقف ہے کہ جبری طور پر ایپ شامل کرنا صارفین کی نگرانی اور پرائیویسی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔ اور دنیا کے کسی بھی ملک میں ایپل نے کبھی ایسا حکم قبول نہیں کیا۔
ذرائع کے مطابق ایپل جلد ہی بھارتی حکام کو اپنے تحفظات سے بھی آگاہ کر دے گا۔ تاہم نہ عدالت جائے گا اور نہ ہی عوامی محاذ کھولے گا۔
کمپنی نے واضح کیا کہ مودی حکومت کے حکم پر عملدرآمد کرنے سے آئی او ایس سسٹم میں سیکیورٹی کمزوریاں پیدا ہوں گی۔ اس لیے یہ ممکن نہیں ہے۔
مودی سرکار کے ناقدین اور ڈیجیٹل پرائیویسی ماہرین اس اقدام کو 730 ملین بھارتی اسمارٹ فون صارفین تک براہِ راست رسائی کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
بھارتی حکومت اسے سائبر سیکیورٹی کے نام پر “حفاظتی قدم” قرار دے رہی ہے۔ مگر ایپل کا انکار مودی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی اور تکنیکی جھٹکا ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل کی نیا آئی فون 17ای لانچ کرنے کی تیاری، خصوصیات کیا ہیں؟
واضح رہے کہ مودی سرکار نے ایپل، سام سنگ اور دیگر کمپنیوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ آئندہ 90 دن کے اندر اپنے تمام اسمارٹ فونز میں سرکاری سائبر سیفٹی ایپ “سنچار ساتھی” لازمی پری لوڈ کریں اور صارفین کو اسے غیر فعال کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
