وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف انتخابی ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیراعلیٰ کی جانب سے دائرہ اختیارپراٹھائے گئے اعتراضات کے بعد تحریری جواب طلب کرلیا ہے اوراس سلسلے میں باقاعدہ تحریری فیصلہ بھی جاری کردیا ہے۔
گزشتہ سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے سہیل آفریدی کو جواب داخل کرانے کیلئے مہلت دی تھی، تاہم فیصلے کے مطابق وزیراعلیٰ کی جانب سے مقررہ مدت میں جواب جمع نہیں کرایا گیا، دوسری جانب امیدوار شہربازعمرایوب کی جانب سے بھی کوئی نمائندہ پیش نہ ہوا۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کیس کے قابل سماعت ہونے پراعتراضات اٹھائے تاہم الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ تمام قانونی اعتراضات تحریری جواب میں پیش کیے جا سکتے ہیں، کمیشن مناسب مرحلے پران اعتراضات پر فیصلہ کریگا۔
پنجاب میں ٹریفک مینجمنٹ میں نئی پیش رفت، ڈرون نگرانی کا آغاز
مزید برآں الیکشن کمیشن نے ڈی آراو ہری پور کو وزیراعلیٰ کے خلاف جاری کارروائی روکنے کی ہدایت بھی کردی ہے، جس کا مقصد کمیشن کے سامنے زیر سماعت معاملے میں کسی قسم کی متوازی کارروائی یا تنازع سے بچنا ہے۔
فیصلے کے متن کے مطابق کیس کے تمام پہلوؤں کو قانون اورضابطے کے مطابق دیکھا جائے گا اور وزیراعلیٰ کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جائزہ تحریری جواب موصول ہونے کے بعد ہی لیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ کیس کے قابل سماعت ہونے اور دائرہ اختیار سے متعلق حتمی فیصلہ مناسب وقت پر کیا جائے گا۔
