تائیوان کے لیے دیر سے تیار ہونے والے ایف 16 وی جنگی طیاروں کے ٹیسٹ فلائٹس اس ماہ شروع ہونے جا رہی ہیں۔
جزیرے کی فضائیہ کے سربراہ کے مطابق 66 میں سے 54 طیارے اس وقت پروڈکشن لائن پر ہیں، جو گزشتہ ماہ 50 تھے۔
تائیوان کو بیجنگ کے بڑھتے ہوئے عسکری دباؤ کا سامنا ہے اور وہ امریکی اسلحے کی تاخیر سے ترسیل پر بارہا تشویش ظاہر کرتا رہا ہے۔
امریکا نے 2019 میں لاک ہیڈ مارٹن کے ایف 16 وی طیاروں کی 8 ارب ڈالر مالیت کی فروخت کی منظوری دی تھی، جس کے بعد تائیوان کے پاس ایف 16 طیاروں کی تعداد 200 سے تجاوز کر جائے گی۔
تاہم سافٹ ویئر مسائل سمیت کئی تکنیکی رکاوٹوں کے باعث منصوبہ تاخیر کا شکار رہا۔
تائیوان کی پارلیمنٹ میں بریفنگ دیتے ہوئے ائیر فورس چیف آف اسٹاف لی چنگ جان نے بتایا کہ ٹیسٹ فلائٹس اسی ماہ شروع ہو جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ لاک ہیڈ مارٹن تاخیر کا شکار طیاروں کی ترسیل تیز کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایف 16 وی ماڈل جدید ترین ایویونکس، ہتھیاروں اور ریڈار سسٹمز سے لیس ہے، جو انہیں چینی فضائیہ کے جدید جے 20 جیسے اسٹیلتھ طیاروں کا مقابلہ کرنے کے قابل بناتا ہے۔
