آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لئے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی لگا دی۔
اس نئے قانون کے تحت آسٹریلیا میں دس دسمبر سے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اس بات کے پابند ہوں گے کہ سولہ سال سے کم عمر بچے ان پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹس نہ بنا سکیں۔
آسٹریلیا کی حکومت نے والدین کی بجائے یہ ذمہ داری براہِ راست سوشل میڈیا کمپنیوں پر عائد کردی ہے، خلاف ورزی کرنے والی کمپنی کے لیے بھاری جرمانے بھی مقرر کر دیے گئے ہیں۔
یہ قدم بچوں کو اس مواد سے بچانے کے لیے ضروری ہے جو اُن کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈالتے ہیں، آسٹریلیا کے بالغ شہریوں کی اکثریت اس پابندی کے حق میں ہے۔
آسٹریلوی حکومت نے سوشل میڈیا کمپنیوں کو سخت ریگولیٹری ہدایات بھی جاری کی ہیں جن کے مطابق پلیٹ فارمز کو لازمی طور پر کم عمر صارفین کی نشاندہی اور ان کے اکاؤنٹس کو غیر فعال کرنے کے لئے اقدام کرنا ہوں گے۔
اس کے علاوہ کمپنیوں پر لازم ہو گا کہ وہ دوبارہ رجسٹریشن روکنے اور موثر شکایتی نظام فراہم کرنے جیسے اقدامات کرے۔
روس نے ملک بھر میں واٹس ایپ پر مکمل پابندی کا عندیہ دے دیا
واضح رہے کہ اس سے قبل ملائیشیا کے کمیونیکیشن وزیر داتوک فہمی فاضل نے اعلان کیا کہ سال 2026 سے 16 سال سے کم عمر افراد کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگلے سال 16 سال سے کم عمر کے لوگوں کو سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے کی اجازت نہیں ہو گی۔
