الیکٹرک گاڑیاں اب دنیا کے کئی ممالک میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں اور پاکستان میں بھی ان کی طلب بڑھ رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے الیکٹرک گاڑیاں عام ہوں گی، پیٹرول پر چلنے والی گاڑیاں نسبتاً کم مقبول ہو جائیں گی کیونکہ لوگ اب ایندھن کی بچت اور ماحول دوست گاڑیوں کی طرف زیادہ مائل ہوں گے۔
پیٹرول پر چلنے والی گاڑیوں کی قیمتیں مارکیٹ میں طلب اور رسد کے حساب سے طے ہوتی ہیں۔ اگر الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد بڑھ جائے اور لوگ انہیں خریدنا شروع کر دیں تو پیٹرول گاڑیوں کی طلب کم ہو سکتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ دکاندار اپنی گاڑیوں کی قیمتیں کم کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں تاکہ فروخت برقرار رہے۔
دوسری جانب، پیٹرول گاڑیوں کے کچھ پرانے ماڈلز کی قیمتیں پہلے ہی کم ہو چکی ہیں، لیکن نئی گاڑیوں کی قیمتیں زیادہ تر مینوفیکچرنگ لاگت اور ٹیکنالوجی پر منحصر ہوتی ہیں، اس لیے تمام گاڑیاں فوراً سستی نہیں ہوں گی۔
الیکٹرا نے پاکستان میں سستی ترین الیکٹرک گاڑیاں متعارف کرا دیں
پھر بھی، مارکیٹ میں مقابلے کی وجہ سے آہستہ آہستہ قیمتوں میں نرمی آ سکتی ہے۔ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ حکومت کی پالیسیاں، جیسے ٹیکس میں چھوٹ یا سبسڈی، بھی گاڑیوں کی قیمتوں پر اثر ڈال سکتی ہیں۔
اگر حکومت الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دے تو پیٹرول گاڑیوں کی قیمتوں پر دباؤ اور بڑھ سکتا ہے۔ نتیجتاً، الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے ساتھ پیٹرول پر چلنے والی گاڑیاں آہستہ آہستہ سستی ہو سکتی ہیں، لیکن یہ عمل وقت کے ساتھ ہوگا اور فوری طور پر ہر گاڑی پر اثر نہیں پڑے گا۔
