امریکا نے یوکرین کو روس یوکرین امن منصوبے پر دستخط کے لئے 27 نومبر تک کی حتمی ڈیڈلائن دے دی ہے۔
خبرایجنسی کے مطابق واشنگٹن نے واضح پیغام دیا ہے کہ اگریوکرین اس مجوزہ منصوبے کوقبول نہیں کرتا تو اسے فراہم کی جانیوالی انٹیلی جنس شیئرنگ اوردفاعی امداد، خصوصاً ہتھیاروں کی فراہمی، جزوی یا مکمل طور پر روک دی جائے گی۔
یہ دباؤ ایسے وقت میں بڑھایا گیا ہے جب یوکرین میں محاذِ جنگ مسلسل وسعت اختیارکررہا ہے اور روسی حملے یوکرینی دفاع پرمزید بوجھ ڈال رہے ہیں۔
ٹرمپ ایک بار پھر آپے سے باہر؛ سوال کرنے پر خاتون صحافی کو مغلظات بک دیں
رپورٹس کے مطابق یوکرینی صدرولادیمیرزیلنسکی کو گزشتہ روزامریکا کی جانب سے امن منصوبے کی تفصیلات باقاعدہ طورپرموصول ہو چکی ہیں، جن میں جنگ بندی، سرحدی سیکیورٹی اورمستقبل کے سیاسی مذاکرات کے نکات شامل ہیں۔
واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ خطے میں جنگ کے خاتمے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے تاہم یوکرین کی قیادت اس پرمحتاط انداز میں غورکررہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرزیلنسکی نے ڈیڈلائن تک فیصلہ نہ کیا تو یوکرین کیلئے میدانِ جنگ میں امریکی تعاون غیر یقینی ہو سکتا ہے، جس کے خطے میں دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
