اسلام آباد، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے این اے 18 کے ضمنی انتخابات میں امن و امان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولنگ کے دوران سیکیورٹی یقینی بنانے کیلئے فوج اور سول آرمڈ فورسز کو طلب کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے سیکریٹری دفاع کو باضابطہ خط لکھ کر پولنگ ڈے پر فوج کی تعیناتی کی درخواست کردی ہے جبکہ سیکریٹری داخلہ کو بھی امن و امان برقرار رکھنے کے حوالے سے الگ خط بھیجا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق حالیہ جلسے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جارحانہ تقریر نے انتخابی ماحول کو شدید متاثر کیا ہے، خط میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ کی گفتگو سے نہ صرف انتخابی افسران میں خوف و ہراس پھیلا بلکہ ایسے تاثرات بھی ابھرے جو سرکاری افسران کے آزادانہ کام میں رکاوٹ کا باعث بن سکتے ہیں۔
آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت کو نوٹس جاری کر دیا
کمیشن نے اس بات پر بھی اعتراض اٹھایا کہ وزیراعلیٰ ایک ایسے شخص کے ساتھ جلسے میں موجود تھے جو قانون کے تحت مفرور ہے، جس سے صورتحال مزید حساس ہوگئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے نشاندہی کی کہ موجودہ ماحول میں انتخابی اسٹاف اورعوام کی جانوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، اس لیے 23 نومبرکوپولنگ اسٹیشنز پرمکمل سیکیورٹی یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
کمیشن نے اپنے خط میں واضح کیا کہ شفاف، آزاد اورپرامن انتخابی عمل کے لئے فوج کی موجودگی ضروری ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوارواقعے سے بچا جاسکے۔
الیکشن کمیشن نے توقع ظاہر کی ہے کہ 23 نومبر کو ہونے والی پولنگ کے دوران امن و امان برقرار رکھا جائے گا اورووٹرزکو ایک محفوظ ماحول فراہم کیا جائے گا۔
