وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا ہے کہ ہم ملک کی سیاست کی غلط تعریف کرتے ہیں ، سیاست کا مقصد عوام کی خدمت ہے، سیاست اور صحافت عوام کے مقدمے کیلئے کی جاتی ہیں۔
چیئرمین این ڈی ایم اے کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہا کہ حالیہ سیلاب سے ملکی جی ڈی پی کا 9 فیصد نقصان ہوا، پچھلے 3،4 سیلابوں کے دوران 4500 سے زائد لوگ جاں بحق ہوئے، جتنے لوگ سیلاب سے جاں بحق ہوئے اتنے جنگوں میں بھی نہیں مارے جاتے۔
موسمیاتی تبدیلی سے بڑے پیمانے پر نقصانات، پاکستان تیزی سے طوفان کی زد میں
انہوں نے کہا کہ سیاست عوام کے دکھ اور درد کا مقدمہ ہے ، ملکی سیاست کامحور لوگوں کی جانیں بچانا ہونا چاہیے۔ پاکستان میں 4 کروڑ لوگ پچھلے چند برس کے سیلابوں سے متاثر ہوئے۔ 2 کروڑ لوگ اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور اور 18 ہزار سے زائد معذوری کا شکار ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا موجودہ نکاسی کاعمل موسمیاتی تبدیلی کی شدت کا مقابلہ نہیں کر سکتا، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے مؤثر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، سیلاب کے دوران ہونے والے نقصانات کو فکس کیا جائے گا،200 دن کے اندر سڑکوں کی تعمیر مکمل کی جائے گی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ارلی وارننگ سسٹم کو ملک بھر میں فعال کیاجائے گا، 5 سال میں موسمیاتی مطابقت کا حامل انفراسٹرکچر تیار کرنا ہے۔
پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، وزیر اعظم
اس موقع پر چیئرمین این ڈی ایم اے انعام حیدر نے کہا کہ ہر سال پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی شدت بڑھ رہی ہے، اگلے مون سون سیزن سے پہلے تیاری کرنے کی ضرورت ہے، 2026 میں رواں سال کے مقابلے میں مون سون سیزن زیادہ شدت سے آئے گا، 2026 میں مون سون کی شدت 20 سے 26 فیصد زیادہ ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ وقت کیساتھ پاکستان میں موسمیاتی شدت بڑھتی جا رہی ہے، مؤثر اقدامات سے موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے، راوی ،چناب اور ستلج پر آنے والے سیلاب کو مختلف طریقے سے نمٹیں گے، پاکستان کے اپنے دریاؤں پر ڈیمز اور بیراج بنائے جائیں گے، سیلاب کے دنوں میں سیاحوں کی آمدورفت کو محدود کیا جائے گا۔
