سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک ڈاکو نے معصوم بچی کے ردعمل سے متاثر ہو کر ڈکیتی ترک کر دی اور لوٹی ہوئی رقم واپس کر کے چلا گیا۔
اس جذباتی موڑ کی وجہ سے یہ ویڈیو ہزاروں صارفین کی توجہ کا مرکز بنی، تاہم، تحقیقات اور فیکٹ چیکنگ سے اس ویڈیو کی حقیقت سامنے آ گئی ہے کہ یہ کوئی حقیقی واقعہ نہیں بلکہ منظم انداز میں تیار کیا گیا ایک ڈرامائی اسکرپٹ ہے۔
حقیقت کیا ہے؟ تحقیقات اور ریورس سرچ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ ویڈیو مواد تخلیق کرنے والے (Content Creators) نے سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ ریچ اور انگیجمنٹ حاصل کرنے کے لیے تیار کی ہے۔
یہ ویڈیو ایک ایسے فیس بک پیج سے لی گئی ہے جہاں پر ایک ہی قسم کے اداکار اور بچے باقاعدگی سے اسی نوعیت کی اسکرپٹڈ ویڈیوز اپ لوڈ کر رہے ہیں۔ یہ ایک شوٹنگ سین ہے جو حقیقت کا تاثر دینے کے لیے بنایا گیا ہے۔
فیکٹ چیک: کیا دیگر صوبوں کے مسافروں پر کراچی ایئرپورٹ سے بیرونِ ملک سفر کرنے پر پابندی ہے؟
فیکٹ چیک پوائنٹس کے مطابق، ویڈیو میں اداکاروں کے ردعمل، ڈکیتی کا منظر، اور کیمرہ اینگل واضح طور پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ایک منصوبہ بند ڈرامہ ہے۔
کسی بھی مستند خبر رساں ادارے، پولیس سٹیشن، یا سرکاری ریکارڈ میں اس ڈکیتی یا واقعہ کی کوئی تصدیق موجود نہیں ہے۔ یہ بات حتمی ہے کہ ویڈیو کا تعلق کسی حقیقی واردات سے نہیں ہے۔
متعدد صارفین نے ویڈیو کے تبصروں میں بھی اسے محض “ایکٹنگ” اور “شوٹنگ سین” قرار دیا ہے۔
جھوٹا تاثر یہ ویڈیو جذبات کو ابھارنے والا ڈرامائی مواد ہے، نہ کہ کوئی حقیقی واقعہ۔ سوشل میڈیا صارفین کو اس قسم کی ویڈیوز کی حقیقت جانے بغیر شیئر کرنے سے گریز کرنا چاہیے جن کا مقصد صرف ویوز اور ریچ بڑھانا ہوتا ہے۔
