اسلام آباد، وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آئین میں انحراف (defection) سے متعلق کلاز بالکل واضح ہے۔
اسحاق ڈارنے کہا کہ پارٹی پالیسی یا ہدایت کے خلاف ووٹ دینا انحراف کے زمرے میں آتا ہے تاہم ایسا ووٹ پھر بھی ضمیر کے مطابق شمارکیا جاتا ہے۔
سینیٹرسیف اللہ ابڑو کو معلوم تھا کہ اگر پارٹی لائن کے برعکس ووٹ دیں گے تواس کی قیمت ادا کرنی ہوگی، مگر انہوں نے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کیا۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کا ترامیم کی منظوری میں اہم کردار
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ جب تک کسی رکن کا تحریری استعفیٰ الیکشن کمیشن کو موصول نہیں ہوتا اور کمیشن اس کی منظوری دے کرڈی نوٹیفائی نہیں کرتا، تب تک رکن اسمبلی یا سینیٹ کا حصہ رہتا ہے۔
وزیرخارجہ نے کہا کہ آئینی عمل کا احترام سب پرلازم ہے، محض اعلان یا بیان سے رکنیت ختم نہیں ہوتی، پروسیجر مکمل ہونے تک سیف اللہ ابڑو ایوان کے رکن ہیں اورانہیں تمام پارلیمانی حقوق حاصل ہیں۔
