لندن، برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک تقریر کی غلط ایڈیٹنگ پر عوام اور صدر ٹرمپ سے معافی مانگ لی ہے۔
بی بی سی کے چیئرمین نے واضح کیا کہ یہ اقدام ادارے کی غیرجانبداری کے اصولوں کی خلاف ورزی کے باعث کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق بی بی سی کے چیف ایگزیکٹو اورنیوز کے سربراہ نے اس معاملے میں استعفیٰ دے دیا، جبکہ چیئرمین نے برطانوی قانون سازوں کو خط جاری کرتے ہوئے وضاحت پیش کی۔
خط میں بتایا گیا کہ ادارے کے اندراس قسم کی ایڈیٹنگ غلطی کوسنجیدگی سے لیا گیا اورمستقبل میں ایسے اقدامات سے گریزکیا جائے گا۔
یاسین ملک کے خلاف مقدمے کی اگلی سماعت 28 جنوری 2026 کو مقرر
چیئرمین بی بی سی نے کہا کہ ادارے کوغیرجانبداری کی بھرپور وکالت کرنی چاہیے اورعوام کو درست، شفاف اور متوازن خبریں فراہم کرنا بی بی سی کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے یقین دلایا کہ ادارے میں تمام اسٹاف کو صحافتی معیارات کے مطابق تربیت دی جائے گی تاکہ آئندہ اس طرح کی غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔
اس واقعے نے بی بی سی کے ساکھ پرسوالات اٹھائے، لیکن ادارے نے فوری طورپرمعذرت اوراصلاحی اقدامات کے اعلان سے صورتحال پر قابو پا لیا ہے۔
