نئی دہلی: حریت رہنما یاسین ملک کے خلاف دہشت گردی اور ٹیرر فنڈنگ کیس کی سماعت اب 28 جنوری 2026 کو ہوگی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ مقدمے کی کارروائی بند کمرے میں کی جائے اور یاسین ملک کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کیا جائے۔
یاسین ملک نے سماعت کے دوران تہاڑ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہو کر اپنے موقف میں کہا کہ کسی شخص کو طویل قید میں رکھنا ذہنی اذیت کے مترادف ہے، عدالت سے گزارش ہے کہ ان کا کیس جلد سنا جائے۔
عرب امارات غزہ امن فورس کا حصہ بنے گا یا نہیں؟ صدارتی مشیر کا اہم بیان سامنے آگیا
بھارتی میڈیا کے مطابق یاسین ملک نے 2019 سے تہاڑ جیل میں قید کاٹی ہے اور وہ اپنا مقدمہ خود لڑ رہے ہیں، یاسین ملک کو بھارت نے 2022 میں ٹیرر فنڈنگ کیس میں مجرم قرار دے کرعمر قید کی سزا سنائی تھی۔
ان پردہشت گردی کی مالی معاونت، بھارت دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور پاکستان سے فنڈنگ حاصل کرنے جیسے الزامات عائد کیے گئے تھے، تاہم ان الزامات کو حریت قیادت نے سیاسی انتقام قراردیا۔
کشمیری قیادت اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے یاسین ملک کے خلاف کارروائی کو بھارتی حکومت کا ایک اور ظالمانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کشمیر کی آزادی کی تحریک کو دبانے کی کوشش ہے۔
