واشنگٹن، امریکی تاریخ کے طویل ترین شٹ ڈاؤن کو آج 40 روز گزر چکے ہیں، جبکہ ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان فنڈنگ بل پرتاحال کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔
خبرایجنسیوں کے مطابق دوردورتک شٹ ڈاؤن ختم ہونے کے آثارنظرنہیں آ رہے، جس کے باعث وفاقی اداروں کی فنڈنگ مکمل طورپر بند ہوچکی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے بڑھتے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایئرٹریفک کنٹرولرزپردباؤ میں نرمی لانے کی غرض سے ملک بھر میں پروازوں کی تعداد میں کمی کا حکم دیا ہے۔
نیویارک سٹی کے نئے میئر زہران ممدانی کا عہدہ سنبھالتے ہی نئی نوکریوں کا اعلان
اس فیصلے کے تحت آج امریکا بھر میں 800 پروازیں منسوخ کردی گئیں جبکہ 40 بڑے ہوائی اڈوں پرفضائی آپریشن محدود کردیا گیا ہے۔
متاثرہ ایئرپورٹس میں اٹلانٹا، نیویارک، ڈینور، شکاگو، ہیوسٹن اور لاس اینجلس جیسے مصروف ترین مراکزشامل ہیں، شٹ ڈاؤن کے باعث ہزاروں سرکاری ملازمین اورایئرپورٹس کا عملہ یا تومعطل ہے یا بغیرتنخواہ کے فرائض انجام دے رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ بحران امریکا کی معیشت، ایوی ایشن سیکٹراورعوامی خدمات کے نظام پرشدید منفی اثرات ڈال رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرفنڈنگ بل پرجلد اتفاق نہ ہوا تو شٹ ڈاؤن مزید طویل ہو سکتا ہے۔
