سردیوں میں لوگ اکثر جسمانی سرگرمی کم کر دیتے ہیں، لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ روزانہ مناسب وقت پیدل چلنا دل کی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ روزانہ کتنے قدم چلنا دل کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے؟
تازہ طبی تحقیق کے مطابق روزانہ سات ہزار قدم چلنے والے افراد میں دل کے امراض اور قبل از وقت موت کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہوجاتا ہے۔ اگرچہ عام طور پر دس ہزار قدم کا ہدف مشہور ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنا زیادہ چلنا ضروری نہیں۔ سات ہزار قدم روزانہ ایک ایسا ہدف ہے جو زیادہ تر لوگوں کے لیے آسان اور صحت بخش ہے۔
تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ جن لوگ روزانہ 6 سے 8 ہزار قدم چلتے ہیں، خاص طور پر بزرگ افراد، ان میں بھی دل کے امراض کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔ چلنے کی صرف مقدار ہی نہیں، بلکہ رفتار بھی اہم ہے۔ تیز یا درمیانی رفتار سے چلنے سے دل زیادہ مضبوط بنتا ہے اور جسم میں خون کی روانی بہتر ہوتی ہے۔
اگر آپ دفتر یا گھر پر زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں تو روزمرہ کے معمول میں تھوڑی سی تبدیلی کے ذریعے آپ یہ ہدف آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ مثلاً: صبح یا شام 20 سے 30 منٹ چہل قدمی کو عادت بنائیں
لفٹ کی بجائے سیڑھیاں استعمال کریں
گاڑی تھوڑا دور پارک کریں تاکہ زیادہ چلنا پڑے
فون پر بات کرتے وقت بیٹھنے کے بجائے چلتے رہیں
اگر آپ کے پاس اسمارٹ فون یا فٹنس واچ ہے تو اس سے روزانہ کے قدم گننا آسان ہو جاتا ہے، لیکن ہر آلہ سو فیصد درست نہیں ہوتا، اس لیے مجموعی سرگرمی پر توجہ دینا زیادہ ضروری ہے۔
ایلو ویرا کے جلد اور صحت پر پڑنے والے حیرت انگیز اثرات
ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر کسی کو دل یا شوگر کا مسئلہ ہے تو وہ اپنی جسمانی سرگرمی بڑھانے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرے۔ ابتدا میں کم قدموں سے آغاز کریں اور آہستہ آہستہ تعداد بڑھائیں تاکہ جسم عادی ہو جائے۔
آخر میں یاد رکھیں کہ روزانہ سات ہزار قدم ایک سادہ مگر مؤثر عادت ہے جو دل کو صحت مند رکھ سکتی ہے، خون کے دباؤ کو متوازن کرتی ہے اور زندگی کو طویل بنانے میں مدد دیتی ہے۔ تھوڑی سی مستقل مزاجی آپ کے دل کو برسوں جوان رکھ سکتی ہے۔
