لاہور، وزیراعلیٰ پنجاب کے نوٹس کے بعد پولیو ٹیم پر حملے کے واقعے میں پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پولیو ٹیم پرحملہ کرنے والے 7 افراد کی شناخت کر کے گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں جبکہ دیگر ملوث افراد کی تلاش جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی انتخابی کامیابی کے خلاف دائر درخواست مسترد
واقعے کے بعد صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہیلتھ ورکرز موسم کی شدت اور مشکلات کی پرواہ کیے بغیر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ان ورکرز کا احسان مند ہونا چاہیے جو ہمارے بچوں کو پولیو جیسے مہلک مرض سے بچانے کے لیے گلی گلی جا رہے ہیں۔
خواجہ عمران نذیر نے واضح کیا کہ کسی شرپسند کو ہیلتھ ورکرز کی عزتِ نفس مجروح نہیں کرنے دی جائے گی اور حکومت ایسے واقعات میں ملوث عناصر کو مثال بنا دے گی۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ انسدادِ پولیو مہم میں بھرپور تعاون کریں تاکہ ملک کو ہمیشہ کے لیے پولیو فری بنایا جا سکے۔
متن کے مطابق پولیو ٹیم پر 20 سے 25 نامعلوم مرد و خواتین پر حملے کا مقدمہ درج کیاگیا، پولیس نے کارسرکار میں مداخلت، ہنگامہ آرائی، املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا۔
بچوں کے والدین آنا شروع ہوئے اور بحث شروع ہوگئی، خواتین نے مردوں کو گھرسے بلایا اور مزاحمت سمیت دھمکیاں دی اور اسی دوران لاکھوں روپے مالیت کی ویکسنیشن پھیک دی گئی اور ویکسین کیریئر توڑ دیاگیا، ایک ورکرزخمی بھی ہوا۔
