برطانیہ میں یونیورسٹی آف سری (University of Surrey)کے محققین نے مصنوعی ذہانت کی کارکردگی کو انسانی دماغ کے نیورل نیٹ ورکس کی تقلید کے ذریعے بہتر بنانے کا نیا طریقہ تیار کیا ہے۔
تحقیق کے مطابق انسانی دماغ کے اعصابی رابطوں کی نقل کرنے سے وہ مصنوعی نیورل جال جو تخلیقی ذہانت اور دیگر جدید ماڈلز میں استعمال ہوتے ہیں، زیادہ مؤثر اور طاقتور ہو سکتے ہیں۔
این ویڈیا کی جدید ترین اے آئی چِپس امریکا سے باہر نہیں جائیں گی، ٹرمپ
رپورٹ کے مطابق اس تحقیق میں ایک طریقہ کار متعارف کروایا گیا ہے جسے نقشہ بندی کم مربوط اعصابی جال کہا جاتا ہے، اس میں ہر عصبی خلیہ صرف اپنے قریب یا متعلقہ خلیوں سے جڑا ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے انسانی دماغ معلومات کو منظم اور مؤثر طریقے سے ذخیرہ کرتا ہے۔
سینئر لیکچرر ڈاکٹر رومن باور نے کہا کہ ہمارے کام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ذہین نظام زیادہ مؤثر اور توانائی کی بچت کے ساتھ بنایا جا سکتا ہے، بغیر کارکردگی میں کمی کیے۔
محققین کے مطابق یہ طریقہ غیر ضروری روابط کو ختم کرتا ہے، جس سے مصنوعی ذہانت کی کارکردگی بہتر اور پائیدار ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر باور نے مزید کہا کہ آج کے بڑے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت کے لیے لاکھوں کلوواٹ گھنٹے بجلی درکار ہوتی ہے، جو بڑھتی ہوئی ضرورت کے لحاظ سے پائیدار نہیں ہے۔
آئی فون کے ڈیجیٹل اسسٹنٹ سری کے لیے نیا اے آئی منصوبہ پیش
ایک جدید ورژن جسے بہتر شدہ نقشہ بندی کم مربوط اعصابی جال کہا جاتا ہے، تربیت کے دوران ایک حیاتیاتی عمل متعارف کرواتا ہے، جس کے ذریعے دماغ کی طرح روابط بتدریج بہتر ہوتے ہیں۔
تحقیقاتی ٹیم اس طریقے کو دیگر شعبوں میں بھی استعمال کرنے کا جائزہ لے رہی ہے، جیسے ایسے کمپیوٹرز جو انسانی دماغ کی ساخت اور کارکردگی سے متاثر ہو کر بنائے جاتے ہیں۔
