امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے والدین اور دانتوں کے ماہرین کو متنبہ کیا ہے کہ تین سال سے کم عمر بچوں کو فلورائیڈ گولیاں دینا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
ایف ڈی اے کے مطابق ان گولیوں کے استعمال سے چھوٹے بچوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس کے بعد ادارے نے ان کی فروخت اور تجویز کرنے پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔
اگلے 2 ماہ میں جعلی اور مہنگی ادویات کی فروخت 99 فیصد بند ہو جائے گی ، مصطفیٰ کمال
ایف ڈی اے کا کہنا ہے کہ فلورائیڈ گولیاں دراصل کبھی بھی ادارے سے باقاعدہ منظوری حاصل نہیں کر سکیں۔ یہ گولیاں عام طور پر ان علاقوں میں دی جاتی ہیں جہاں پینے کے پانی میں فلورائیڈ کی مقدار کم ہوتی ہے، تاہم چونکہ انہیں نگلا جاتا ہے، اس لیے یہ ٹوتھ پیسٹ یا ماؤتھ واش سے مختلف اثر رکھتی ہیں۔
ادارے نے وضاحت کی کہ چونکہ بچے ابھی بہت چھوٹے ہوتے ہیں، ان کے جسم میں فلورائیڈ کا زائد داخل ہونا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے فلورائیڈ گولیاں بنانے والی چار کمپنیوں کو باضابطہ نوٹس جاری کیے ہیں اور ہدایت دی ہے کہ ان کی مصنوعات صرف اُن بچوں کے لیے لیبل کی جائیں جو دانتوں کے زوال یا کیویٹی کے زیادہ خطرے میں ہوں۔
ادارے نے زور دیا کہ ایسی گولیوں کو عام طور پر چھوٹے بچوں کے لیے محفوظ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
دوسری جانب، امریکی ہیلتھ سیکریٹری رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے ایف ڈی اے کے اس فیصلے کو’’بچوں کو فلورائیڈ کے خطرات سے بچانے کے لیے ایک تاریخی اقدام‘‘ قرار دیا ہے۔
ڈرگ کنٹرول پنجاب کا مختلف ادویات کے ناقص بیچز فوری مارکیٹ سے واپس لینے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام نہ صرف عوامی صحت کے تحفظ میں سنگِ میل ثابت ہوگا بلکہ اس سے بچوں میں دانتوں کے علاج سے جڑے غیر ضروری خطرات کو بھی کم کیا جا سکے گا۔
ایف ڈی اے نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ تین سال سے کم عمر بچوں کے لیے کسی بھی قسم کی فلورائیڈ گولی یا سپلیمنٹ استعمال کرنے سے پہلے لازمی طور پر ماہرِ اطفال یا دانتوں کے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
