وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے دراندازی مکمل بند ہونی چاہیے ، دہشتگردی پر پاکستان اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ کابل کی طالبان رجیم دہشتگردوں کی پشت پناہی بند کر دے ، ثالث ہمارے مفادات کی مکمل دیکھ بھال کریں گے ، دہشتگردی کی روک کے بغیر ہمسایوں کے تعلقات میں بہتری کی گنجائش نہیں ، پاکستان میں امن کی ضمانت کابل کو دینا ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی ہو یا بی ایل اے ہو پاکستان میں دہشتگردی برداشت نہیں کریں گے، افغانستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کی سرپرستی بند ہونے تک ہمارے تعلقات معمول پر نہیں آ سکتے ، افغانستان سے مذاکرات کا اگلا سیشن 6 نومبر کو ہو گا۔
بھارت افغان سرزمین سے پاکستان کیخلاف جنگ چھیڑ رہا ہے ، شواہد موجود ہیں ، وزیر دفاع
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت آہستہ آہستہ تنہائی کا شکار ہو رہی ہے ، پی ٹی آئی کے لوگ اپنے سیاسی مفادات کی بات کرتے ہیں ، یہ ملک نیازی لا کے تحت نہیں چل سکتا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیانات ملکی کی سلامتی کے منافی ہیں۔ اگر وزیراعلیٰ کہے کہ نیازی لاء نہیں ہوگا تو پاکستان نہیں چلے گا یہ حب الوطنی نہیں۔
اسرائیل کو تسلیم کیا نہ فوجی تعاون زیر غور ، بھارتی پروپیگنڈا بےبنیاد ہے ، پاکستان
انہوں نے مزید کہا کہ ان لوگوں کی سوچ نیازی لا کے تابع نہیں وسیع ہونی چاہیے، یہ ایک شخص کے ارد گرد پاکستان کی بقاء کو داؤ پر لگا رہے ہیں، یہ بالواسطہ دہشتگردی کی ایک طرح سے معاونت کر رہے ہیں، وہ مذاکرات کی کامیابی کے امکانات میں پاکستان کے بجائے افغانستان کی پوزیشن مضبوط کر رہے ہیں۔
