سیب سے بنے دو مشہور مشروبات ’’ایپل جوس اورایپل کا سرکہ‘‘ اکثر ایک جیسے سمجھے جاتے ہیں، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دونوں کے اجزاء، غذائیت اور صحت پر اثرات میں واضح فرق موجود ہے۔
بنانے کا طریقہ
ایپل کا سرکہ عام طور پر تازہ سیب کو پیس کر ان کا رس نکالنے سے تیار کیا جاتا ہے، جو نہ تو فلٹر کیا جاتا ہے اور نہ ہی زیادہ گرم کیا جاتا ہے۔ اسی لیے اس کا رنگ قدرے دھندلا اور ذائقہ زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ کئی بار اس میں دار چینی جیسے مصالحے بھی شامل کیے جاتے ہیں۔
ایپل جوس کو مکمل طور پر فلٹر اور پیسچرائز کیا جاتا ہے تاکہ وہ زیادہ دیر تک محفوظ رہ سکے، جس سے اس کا رنگ صاف اور چمکدار ہو جاتا ہے۔
کیلوریز اور شکر
ماہرین کے مطابق 8 اونس ایپل جوس میں تقریباً 110 کیلوریز اور 28 گرام شکر ہوتی ہے، جب کہ اتنی ہی مقدار میں ایپل کے سرکے میں113 کیلوریز اور 24 گرام شکرپائی جاتی ہے۔ فرق معمولی ہے، مگر بعض کمپنیوں کے جوسز میں اضافی چینی بھی شامل ہوتی ہے، جو صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
صحت پر اثرات
ایپل جوس اور سرکہ دونوں میں فائبر اور پروٹین کی کمی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ مشروبات جلدی ہضم ہو جاتے ہیں اور خون میں شوگر لیول تیزی سے بڑھاتے ہیں۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ انہیں پروٹین یا فائبر والے کھانوں کے ساتھ پینا بہتر ہے تاکہ شوگر کا اثر کم ہو سکے۔
وٹامنز اور غذائیت
قدرتی طور پر دونوں مشروبات میں وٹامنز کم ہوتے ہیں، تاہم کئی کمپنیاں اپنے جوس میں وٹامن سی شامل کرتی ہیں۔ ایپل کے سرکے میں چونکہ کم پروسیسنگ ہوتی ہے، اس لیے اس میں پولی فینولز جیسے قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں جو دل اور کینسر جیسی بیماریوں سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
وزن اور بلڈ شوگر کنٹرول کے لیے مشورے
صرف 100 فیصد خالص جوس یا سرکےکا انتخاب کریں۔
مقدار محدود رکھیں، روزانہ 4 سے 8 اونس کافی ہیں۔
زیادہ صحت مند انتخاب کے لیے جوس میں تھوڑا پانی ملا کر پئیں۔
سب سے بہتر متبادل: پورا سیب کھائیں تاکہ فائبر اور غذائیت دونوں حاصل ہوں۔
