گرمیوں میں جب سورج آگ برساتا ہے اور گھر تندور بن جاتا ہے، تو ایئر کنڈیشنر(air conditioner) کسی نعمت سے کم نہیں لگتا۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ٹھنڈک اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ انسان کمبل اوڑھنے یا جیکٹ پہننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایئر کنڈیشنر کا درجہ حرارت درست سیٹ کرنا نہ صرف آرام دہ ماحول فراہم کرتا ہے بلکہ بجلی کے بلوں میں نمایاں کمی بھی لا سکتا ہے۔
5 گنا کم بجلی، 4 گنا زیادہ ٹھنڈک :نئی اے سی ٹیکنالوجی آگئی
اپلائنسز آن لائن کے ماہر کولن جونز نے بتایا کہ ایئر کنڈیشنر کی سیٹنگ بجلی کے خرچ پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ ان کے مطابق، “ہر ایک ڈگری اضافی کولنگ یا ہیٹنگ بجلی کے استعمال میں تقریباً 5 سے 10 فیصد اضافہ کر سکتی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ گرمیوں میں بہت سے لوگ ایئر کنڈیشنر کو انتہائی کم درجہ حرارت پر چلا دیتے ہیں، جس سے کمرہ فریزر جیسا سرد ہو جاتا ہے۔ کولن جونز کے مطابق، “گرمیوں میں ایئر کنڈیشنر کا مثالی درجہ حرارت 24 سے 26 ڈگری سیلسیس کے درمیان ہونا چاہیے، البتہ یہ آپ کے علاقے کے موسم پر بھی منحصر ہے۔”
اسی طرح سردیوں میں بھی بہت سے لوگ اپنے کمروں کو حد سے زیادہ گرم کر دیتے ہیں، جس سے توانائی کا ضیاع ہوتا ہے۔ کولن جونز کے مطابق، “سردیوں میں 18 سے 21 ڈگری کے درمیان درجہ حرارت مناسب رہتا ہے، تاہم مقامی موسم کے لحاظ سے معمولی فرق کیا جا سکتا ہے۔”
بجلی سے چلنے والی ایسی اشیا جو بند ہونے کے باوجود بل بڑھاتی ہیں
توانائی ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ گھر میں آرام دہ ماحول رہے اور بجلی کے بل بھی قابو میں رہیں، تو ایئر کنڈیشنر کے درجہ حرارت کو معتدل رکھنا بہترین حکمتِ عملی ہے۔
ماہرین نے مزید کہا کہ جدید ایئر کنڈیشنرز میں “انوائرمنٹ موڈ” یا “ایکو سیٹنگ” جیسی خصوصیات استعمال کرنے سے بھی توانائی کے استعمال میں نمایاں کمی کی جا سکتی ہے۔