سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی موجودہ قیادت کرایے پر لائی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں یہ لازمی کہوں گا کہ پاکستان نے گزشتہ کچھ عرصے میں بہت کامیابی حاصل کی ہے جس میں خطے اور دنیا کی بڑی طاقتوں کیساتھ مضبوط روابط قائم کرنا اہم سنگ میل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 76 سالہ تاریخ میں یہ ایک خواب تھا امریکہ سمیت دنیا کی بڑی طاقتیں ہمارے ساتھ ہوں۔ “ہمارے لیے یہ ایک خواب ہی ہو سکتا تھا کہ سعودی عرب بھی ہمارے ساتھ ہو اور ایران بھی، امریکہ بھی ہمارے ساتھ ہو اور چین بھی۔”
فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے ڈپلومیٹک فرنٹ پر نمایاں کامیابی حاصل کی، یہ خواب بھی حقیقت بنا کہ امریکا پاکستان کی حمایت اور تعریف کرے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب نے بھی پاکستان کی خدمات کو سراہا۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی سفارتی کامیابیاں پی ٹی آئی کے لیے نقصان ہے۔ “حکومت کو عالمی طاقتوں کی جانب سے جتنی سفارتی حمایت حاصل ہو گی، اس کا پی ٹی آئی کو نقصان تو ہو گا نا۔”
اس کے علاوہ سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کوملک میں استحکام لانے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں خیبر پختونخوا حکومت کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نےگزشتہ روز ذمہ دارانہ بیان دیا۔
فواد چودھری کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی 2021 میں پی ٹی آئی دور میں لگی تھی۔
تحریک لبیک پر پابندی شاید وہ واحد فیصلہ ہے جو تحریک انصاف کی حکومت اور موجودہ حکومت دونوں نے کیا، 2021 میں عمران خان کی کابینہ نے تحریک لبیک پر پابندی لگائ جو اب نون لیگ نے بھی وہی فیصلہ کیا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہوتا ہے کہ یہ تنظیم معاشرے کیلئے کتنا بڑا زہر قاتل تھی کہ اس پر…
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) October 23, 2025
آخر میں انہوں نے پی ٹی آئی کیخلاف کریک ڈاؤن پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔
