اوپن اے آئی (AI)نے منگل کے روز اپنے نئے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے براؤزر (ChatGPT Atlas) کے اجرا کا اعلان کردیا ہے، جو بظاہر گوگل کے غلبے کو چیلنج کرنے کی ایک بڑی کوشش قرار دی جارہی ہے۔
View this post on Instagram
کمپنی کے مطابق، یہ براؤزر ابتدائی طور پرmacOS کے لیے دستیاب ہوگا، جب کہ جلد ہیWindows، iOS اور Android ورژنز بھی متعارف کرائے جائیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ChatGPT Atlas تمام مفت صارفین کے لیے بھی دستیاب ہوگا۔
مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں براؤزرز اب نیا میدان بن چکے ہیں۔ گوگل کروم طویل عرصے سے اس میدان میں حکمران رہا ہے، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ AI چیٹ بوٹس اور ایجنٹس نے آن لائن کام کرنے کے انداز کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ اسی وجہ سے کئی اسٹارٹ اپس نے اپنے AI براؤزرز لانچ کیے ہیں۔
اوپن اے آئی کے انجینئرنگ لیڈ’’بین گوڈجر‘‘ نے براہِ راست نشریات کے دوران بتایا کہ ’’ChatGPT Atlas‘‘ میں چیٹ جی پی ٹی کا بنیادی کردار ہے۔ صارفین اب اپنے سرچ نتائج سے براہِ راست گفتگو کرسکیں گے۔
ChatGPT Atlas کا سب سے نمایاں فیچر اس کا’’سائیڈ کار‘‘پینل ہے، جو صارف کے سامنے موجود ویب پیج سے خودکار طور پر معلومات حاصل کرکے چیٹ جی پی ٹی کو سیاق و سباق فراہم کرتا ہے۔ اس سے صارفین کو بار بار ٹیکسٹ کاپی یا لنکس ڈریگ کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
اوپن اے آئی کے پروڈکٹ لیڈ ’’ایڈم فرائی‘‘ کے مطابق، اٹلس میں یہ فیچر مکمل طور پر شامل ہوگا، جب کہ اس میں ایک “براؤزر ہسٹری” فیچر بھی دیا گیا ہے جو صارف کے وزٹ کیے گئے ویب صفحات کو محفوظ رکھتا ہے تاکہ جوابات مزید ذاتی نوعیت کے ہوں۔
مزید یہ کہ ChatGPT Atlas میں ایک نیا’’ایجنٹ موڈ‘‘ بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے ذریعے چیٹ جی پی ٹی صارف کی جانب سے آن لائن چھوٹے کام خود انجام دے سکے گا۔ تاہم یہ فیچر فی الحال صرف Plus، Pro، اور Business صارفین کے لیے دستیاب ہوگا۔
اوپن اے آئی کے ہیڈ آف چیٹ جی پی ٹی ’’نک ٹرلی‘‘ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ براؤزرز کو’’نئے دور کے آپریٹنگ سسٹم‘‘کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق، جیسے براؤزرز نے انٹرنیٹ کے استعمال کا طریقہ بدل دیا، ویسے ہی چیٹ جی پی ٹی آن لائن کام کرنے کے طریقوں میں انقلاب لانے والا ہے۔
مزید پڑھیں:اے آئی ایپس پر صارفین کی تعداد ایک ارب سے تجاوز کر گئی
