پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی صاحبزادی تاتیرہ اچکزئی (Thaterra Achakzai)کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا مہنگا پڑ گیا۔
Pakistan is the Temu’s cheapest version of Isreal, a hypocrite and Barbaric state whose hands are chained by the grt masters of the free world, whose hands are covered with the bloods of millions of Innocent people i.e The Baloch, Pashtuns and the Afghans#AfghanistanPakistanWar
— Thaterra Achakzai (@ThaterraAchak) October 16, 2025
تاتیرہ نے 16 اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ پاکستان اسرائیل کا سستا ٹیمو ورژن ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی ریاست کے ہاتھ فری ورلڈ یعنی مغربی دنیا کے آقاؤں نے باندھ رکھے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ انھوں نے ریاست پر دیگر الزام بھی لگائے۔
تاہم یہ تنازع اس وقت اور بڑھ گیا جب ایک دن بعد یعنی 17 اکتوبر کو بلوچستان یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے ایک نوٹس جاری کیا گیا۔
یونیورسٹی آف بلوچستان کے اسسٹنٹ رجسٹرار(جنرل) کی جانب سے جاری ہونے والے شوکاز نوٹس کے متن کے مطابق انھوں نے 16 اکتوبر کو صبح ساڑھے دس بجے ریاست مخالف بیانیے پر مشتمل ٹویٹ کیا۔
نوٹس کے مطابق یہ عمل ضابطہ اخلاق کے خلاف اور سنگین مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ ٹویٹ آپ کے خلاف تادیبی کاروائی کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ آپ نے 2022 اور2024 میں جاری کیے جانے والی ہدایات کی خلاف ورزی کی ہے۔
نوٹس میں تاتیرہ اچکزئی سے کہا گیا ہے کہ وہ پانچ دن کے اندر تحریری وضاحتی بیان جمع کروائیں ورنہ آپ کے خلاف یونیورسٹی آف بلوچستان کے قوانین کے تحت سخت کاروائی کا آغاز کیا جائے گا۔
یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر طارق جوگیزئی نے اس بات کی تصدیق کی کہ خاتون لیکچرر کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
یونیورسٹی کے لیگل ٹیم کے ایک رکن نے بتایا کہ اگر کسی ملازم کو شوکاز نوٹس جاری ہو اور وہ انکار کرے تو انکوائری آفیسر مقرر کیا جاتا ہے جو خلاف ورزی ثابت ہونے پر مجرم قرار دے سکتا ہے جس کے بعد سزا کا تعین کیا جاتا ہے اور ملازمت سے برطرفی بھی ہو سکتی ہے۔
سوشل میڈیا پر تاتیرہ اچکزئی کے ٹوئٹ پر ملا جلا ردعمل سامنے آرہا ہے۔
مزید پڑھیں:جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کی لڑائی کھل کر سامنے آ گئی ، محمود اچکزئی
