اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن نہ ہوا تو وزیر اعظم کو بھی بلا سکتے ہیں۔
الیکشن کمیشن میں پنجاب بلدیاتی انتخابات میں تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔ جس میں کہا گیا کہ پنجاب اور وفاقی حکومت بلدیاتی الیکشن میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔
سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید نے کہا کہ پنجاب حکومت نے 3 سال الیکشن میں تاخیر کی ہے۔ 31 سمبر 2021 کو پنجاب میں بلدیاتی حکومتوں کی مدت ختم ہوئی تھی۔ اور 2019 سے لے کر اب تک پنجاب میں 5 مرتبہ مقامی حکومتی قوانین تبدیل ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں چھٹی مرتبہ قانون میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔ فروری میں پنجاب کی مقامی حکومت سے متعلق الیکشن کمیشن میں سماعت ہوئی تھی۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ بلدیاتی حکومت کیس میں خود سپریم کورٹ میں پیش ہوا تھا۔ اور یہ نہیں ہوسکتا کہ صوبائی حکومت قانون سازی ہی نہ کرے۔
یہ بھی پڑھیں: 190 ملین پائونڈز کیس ، نیب نے خصوصی پراسیکیوشن ٹیم تشکیل دیدی
وزیر بلدیات پنجاب نے کہا کہ پنجاب بلدیاتی انتخابات کے لیے قانون سازی قائمہ کمیٹی میں زیر غور ہے۔ اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ جلد قانون سازی مکمل کر لی جائے۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پنجاب کے علاوہ تینوں صوبوں نے بلدیاتی الیکشن کروا دیا ہے۔ اور ہم مناسب آرڈر پاس کریں گے۔ جلد اس عمل کو مکمل کیا جائے۔ کیونکہ الیکشن کمیشن آنکھیں بند کر کے نہیں بیٹھ سکتا۔
رکن کمیشن نے کہا کہ ہم کس کو بلائیں جو ہمیں کمٹمنٹ دے کر جائے کہ انتخاب ہو جائے گا۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن کمیشن وزیر اعلیٰ کو بلا سکتا ہے۔ اور اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن نہ ہوا تو وزیر اعظم کو بھی بلا سکتے ہیں۔
