سینیٹ اجلاس میں سینیٹرز نے سٹیٹ بینک ملازمین کی زیادہ تنخواہوں پر تعجب کا اظہارکیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹرزنے کہا ہے کہسٹیٹ بینک کے گریڈ 8کے ملازم کی تنخواہ تقریبا40 لاکھ روپے ہے۔
روزمرہ استعمال کی ضروری اشیا کی قیمتوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر کمی
اراکین نے استفسار کیا کہ ہماری تنخواہ ایک لاکھ60 ہزار اور گریڈ8 کے ملازم کی 40 لاکھ روپے کیوں ؟
سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ سنا ہے گورنر اسٹیٹ بینک کی تنخواہ 40 لاکھ رو پے ہے۔
سینیٹر پلوشہ نے کہا کہ ایک سینیٹر کی تنخواہ ایک لاکھ 40 ہزارروپے ہے،گورنر اسٹیٹ بینک ایسا کونسا کام کرتے ہیں کہ ان کی تنخواہ 40 لاکھ روپے ہے۔
اوگرا نے درآمدی آر ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا
ہم آئی ایم ایف سے بھیک مانگتے اور دوسری جانب اسٹیٹ بینک کے لوگوں کی اتنی تنخواہ ہے۔
اس موقع پر نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر نے کہا کہ سٹیٹ بینک ایک کارپوریٹ باڈی ہے۔یہ تمام معاملات اسٹیٹ بینک بورڈ آف گورنرز کی باڈی کرتی ہے۔
سٹیٹ بینک نے پالیسی دی تھی کہ پنشن ختم ہونے کی صورت میں تنخواہ بڑھا دی،سٹیٹ بینک کی پنشن بوجھ بڑھ رہا تھا تو یہ پالیسی لائی گئی۔
فوزیہ صدیقی کی امریکی جیل میں قید عافیہ صدیقی سے پھر ملاقات طے پا گئی
دنیا بھر میں سینٹرل بینک کا سیلری اسٹرکچر سب سے مختلف ہوتا ہے۔
علاوہ ازیں نگران وزیر خزانہ نے سینیٹ اجلاس میں ڈیم فنڈز کے حوالے سے تحریری جواب جمع کرایا ہے۔
جواب میں بتایا گیا ہے کہ ڈیم فنڈز میں اس وقت 17 ارب 86 کروڑ روپے موجود ہیں، اب تک کوئی رقم فنڈ سے باہر نہیں نکالی گئی، یہ رقم صرف عدلیہ کے فیصلے پر ہی نکالی جاسکے گی۔
فرحت اللہ بابر پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل کے عہدے سے مستعفی
ڈاکٹر شمشاد اختر نے تحریری جواب میں مزید بتایا کہ جولائی تک چیف جسٹس وزیراعظم ڈیم فنڈ میں رقوم کی مالیت 11 ارب 46 کروڑ روپے تھی، جس پر سرکاری منافع کی صورت میں 6 ارب 29 کروڑ روپے موصول ہوئے۔
