ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کی کوئی تاریخ تاحال طے نہیں کی گئی۔
ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف مدینہ منورہ سے دوحہ روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کریں گے جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر گزشتہ روز تہران پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور فوری امن کا خواہاں ہے اور اسلام آباد میں امن مذاکرات کے انعقاد کیلئے وزیراعظم نے بھرپور کردار ادا کیا۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم بھی اس عمل میں سرگرم رہی۔ ترجمان کے مطابق پاکستان کی مؤثر ثالثی اور جاندار سہولتکاری کے باعث جنگ بندی ممکن ہوئی۔
ترجمان نے مزید کہا کہ گزشتہ ہفتے امریکی اور ایرانی وفود نے وزیراعظم اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں اور بہترین میزبانی پر پاکستان کو سراہا، عالمی سطح پر پاکستان کی امن کوششوں کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے حال ہی میں سعودی عرب کا دورہ بھی کیا جہاں سعودی قیادت کو پاکستان کی کوششوں سے آگاہ کیا گیا جبکہ امیرِ قطر، جرمن چانسلر اور اطالوی وزیراعظم نے بھی شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطے کیے۔ مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ 9 اپریل کو اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملوں کی پاکستان شدید مذمت کرتا ہے اور ان فضائی حملوں کو علاقائی امن کیلئے خطرہ قرار دیتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کی بھی شدید مذمت کی اور عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
وزیراعظم کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور باہمی تعاون پر تبادلہ خیال
ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت کا انتہا پسندانہ ایجنڈا خطے کے استحکام کو نقصان پہنچا رہا ہے، جبکہ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے بھارت میں اقلیتوں کے خلاف کارروائیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان علاقائی امن اور انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے عالمی سطح پر آواز بلند کرتا رہے گا۔
