معاہدے سے سالانہ 70 سے 100 ارب روپے کی بچت میں مدد ملے گی۔
حکومت سپورٹ نہیں کرتی تو انویسٹمنٹ بیرون ملک چلی جاتی ہے۔
سمندرپار پاکستانیوں کا ملک پر اعتماد ہے اور وہ ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں۔
حکومت کی 100 کے قریب آئی پی پیز سے بات چیت جاری ہے۔
پاور پلانٹس کی پیمنٹ کی تفصیلات قومی اسمبلی میں بھی پیش کر دی گئی۔
1200 ارب روپے وصول کرنے والے نجی پاور کمپنیوں کی جانب سے ایک روپے کی بھی بجلی پیدا نہیں کی گئی، رپورٹ
آئی پی پیز سے ایسے معاہدے کیے گئے جو دنیا میں کہیں نہیں ہوئے۔
اوسطاً 78 ہزار روپے کی ماہانہ بجلی ایک ملازم کو ملتی ہے، سیکرٹری پاور
ادھر زہر کھانے کے پیسے نہیں اور آپ نئی ٹرینیں لا رہے ہیں۔
اقدامات کا مقصد پاکستان کے عوام، کاروبار اور صنعتوں پر بوجھ کو کم کرنا ہے، پنجاب بار کونسل








