بلاول بھٹو زرداری کو نیب کی جانب سے سوالنامے کا تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا۔
نیب کالا قانون ہے اس کو ختم کر کے احتساب کا صاف اور شفاف نظام ہونا چاہیے، چیئرمین پی پی پی
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری ایک بار پھر پنجاب کا دورہ کریں گے۔
سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے کوئی بھی مطمئن نہیں ہے آزادی صحافت پر قدغن لگائی جا رہی ہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہمیں عوام کو بتانا پڑے گا کہ اُن کا اسٹیک انتخاب، سیاست اور معیشت میں ہونا چاہیے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ قومی مسائل اور مہنگائی پر قومی اسمبلی میں بحث کروانا ہو گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت کو چاہیے آئی ایم ایف سے دوبارہ بات چیت کرے۔
’عمران خان نے کراچی پہنچ کر پانی کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا لیکن گالم گلوچ اور الزامات کے سوا کچھ نہیں کیا گیا۔‘
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر حکومت نے جمہوری طریقہ کار پر عملدرآمد نہ کیا تو حکومت کو قانون کی منظوری میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پیپلز پارٹی کی حکومت مشکلات کے باوجود کارکردگی دکھا رہی ہے، چیئرمین پی پی پی
اپنی ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ آصف زرداری نے کہا تھا کہ نیب اور معیشت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔
ہم عوام کی مدد سے 2020 میں عوامی راج قائم کر کے رہیں گے، چیئرمین پیپلزپارٹی
پلوشہ خان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کو دشمن بھی غیرمعیاری ملے جو سیاست کے بجائے لہجے پر تنقید کرتے ہیں۔
ترجمان نیب نے کہا ہے کہ نازیبا الفاظ اور دھمکی نیب کو قانونی عمل سے نہیں روک سکتی۔
گزشتہ روز حکومت نے بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر پیپلزپارٹی کو جلسے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔













