ہلاکتیں دم گھٹنے سے ہوئیں، ریسکیوحکام
کمرے میں گیس بھر گئی تھی، ریسکیو
دھماکے کی اطلاع ملتے ہی علاقہ پولیس اور امدادی ادارے جائے وقوع پر پہنچ گئے ہیں۔
متاثرہ خاندان لاہور سے پشاور بطور مہمان آیا تھا
دھماکے کا مقدمہ نجی بینک کے آپریشن منیجر کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
حادثے کے وقت ہزاروں ملازمین فیکٹری میں کام کر رہے تھے، فیکٹری ملازم
واقعے میں ایک خاتون سمیت آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے
گیس چوری میں معاونت فراہم كرنے والے گیس كمپنیوں كے اہلكاروں كے خلاف بھی سخت ترین كارروائی عمل میں لانے کا حکم۔
جاں بحق ہونے والوں میں 17 سالہ بچہ فہد کیانی بھی شامل ہے








