نواز شریف کے دوسری بیٹی کو شامل تفتیش کر کے ازیت دینے کی کوشش کی جارہی ہے، عطا تارڑ
چوہدری شوگرملز کیس میں سابق وزیراعظم نوازشریف، ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز اور یوسف عباس کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی ہے
یوسف عباس کو 1 ایک کروڑ روپے کے دو مچلکے جمع کرانے کی بھی ہداہت کی ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی تھی دانتوں میں تکلیف ہے اس لیے اسپتال منتقل کیا جائے
عدالت نے آئندہ سماعت پر نوازشریف کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے
مریم نواز نے چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت کی درخواست دی تھی جس پر عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا
لاہورہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
لاہورہائیکورٹ کا تحریری فیصلہ 16 صفحات پر مشتمل ہے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیاہے کہ نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت منظور کی جاتی ہے۔
مریم نواز اور نوازشریف کے بھتیجے یوسف عباس نیب کی تحویل میں 48 روزہ جسمانی ریمانڈ کاٹ چکے ہیں
مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے سابق وزیراعظم سے سوال کیا کہ آپ نے یوسف عباس اور مریم نواز کی شراکت داری سے 410ملین روپے کی منی لانڈرنگ کی؟
قومی احتساب بیورو نے نواز شریف سے جیل میں تفتیش اور گرفتاری کیلئے درخواست دے رکھی تھی جیسے عدالت نے منظور کرلیا ہے۔
مریم نواز سے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات ہوئی ہے، وہ چھوٹے سے سیل میں قیدِ تنہائی کاٹ رہی ہیں۔ڈاکٹر عدنان
عدالت نے نیب کی جانب سے دونوں ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے 9 اکتوبر کو انہیں دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
نیب رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ مریم نواز سے 3 غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے بھجوائے گئے شئیرز کی متعلق پوچھا گیا اور ٹرانسفر ڈیڈ مانگی گئی۔
نیب نے چودھری شوگر ملز کیس میں مریم نواز اور یوسف عباس کے اثاثوں کو منجمد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔












