کورونا کے باعث پاکستان کو قرضوں کی واپسی میں رواں سال دسمبر تک توسیع دی جا رہی ہے۔
قرض پاکستان کے اقتصادی پلان کی مدد کیلیے دیا جائے گا، جس سے پاکستان کی معیشت کی تسلسل سے ترقی بحال ہوگی
آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ کا اجلاس 3جولائی کو منعقد ہورہا ہے، جس میں پاکستان کے ساتھ طے ہونے والے معاہدے کی منظوری دی جائے گی
جب حکومت سنبھالی تو ملک پر قرضہ 31 ہزار ارب روپے تھا جبکہ سر کلرڈیٹ 38 ارب روپے تھا، حفیظ شیخ
رائع کے مطابق پاکستان آئی ایم ایف سے تین سالہ پروگرام کے تحت ساڑھے چھ ارب سے آٹھ ارب ڈالرز تک کا قرض حاصل کرے گا۔
خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری اور آئندہ مالی سال کاترقیاتی بجٹ گزشتہ سال کی سطح پر منجمد کرنے کا پلان بھی زیر غور ہے
رضاربانی نے کہا دفاعی بجٹ اور پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام کی فنڈنگ کی معلومات ان ہاتھوں سے گزرے گی جنہوں نے پاکستان کا حلف نہیں لیا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں اسد عمرنے کہا کہ گزشتہ ادوار میں بھی آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کی تفصیلات پبلک نہیں کی گئیں
اگر زیادہ بدعنوانی ہوگی تو اعتماد کا فقدان ہوگا ،کم آمدن پیدا ہوگی اور نوجوان اپنے ممالک کے اداروں پر کم اعتماد کریں گے۔