اسلام آباد: پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں فعال اور پیشہ ورانہ سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے دونوں فریقین کو دہائیوں بعد ایک میز پر بٹھانے میں اہم کامیابی حاصل کی۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی قیادت میں ہونے والی کوششوں کے دوران تقریباً 31 گھنٹے تک مسلسل سفارتکاری جاری رہی۔ جس میں متعدد اہم نشستیں شامل تھیں۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں قابل ذکر پیشرفت ہوئی اور کئی مثبت پہلو سامنے آئے۔ تاہم یہ ایک پیچیدہ اور طویل تنازع ہے جس میں مختلف اختلافات اور بیرونی عوامل بھی شامل ہیں۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حاصل ہونے والے نتائج دونوں فریقین کے باہمی معاملات اور داخلی دباؤ سے جڑے ہیں۔ جبکہ پاکستان نے عالمی اور علاقائی امن کے لیے ایک ذمہ دار اور غیر معمولی کردار ادا کیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بیان میں بھی ثالثی عمل کے حوالے سے امید کی جھلک دیکھی گئی ہے۔ جبکہ دونوں فریقین اب ایک دوسرے کے مؤقف کو بہتر انداز میں سمجھنے کے قریب آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی کرنسی کی قیمت میں بڑا اضافہ، خریداروں کو ماہرین کی وارننگ
حکام کے مطابق مذاکرات کی تفصیلات رازداری کے باعث ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔ کیونکہ پاکستان کا کردار صرف ثالثی تک محدود تھا۔
