اسلام آباد (سہیل اختر) بظاہر دو متحارب ملکوں کے درمیان۔۔۔ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات ختم ہو گئے ہیں۔ لیکن میرے خیال میں یہ مذاکرات ختم نہیں ہوئے بلکہ یہیں سے نئی امید ، نئے راستے تلاش کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ پہلی بار باضابطہ آمنے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کو سمجھنے کا آغاز ہوا ہے۔
ایک وہ وقت تھا کہ دنیا بھر کی نظریں اس بات پر لگی تھیں کہ مشرق وسطیٰ جنگ اور شعلوں کی کی لپیٹ میں ہے۔ خبریں آرہی تھیں۔ کہ خلیجی ممالک پر اتنے ڈرون اور میزائل برسائے گئے۔۔ عرب ممالک ان حملوں پر ناراض بھی تھے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران میں تباہی کے مناظر بھی ہولناک تھے۔ اسی لمحے آبنائے ہرمز کا بند ہونا اور خطے میں معاشی صورتحال کا بگڑنا ، یہ سب ایسی باتیں ہیں جس کا سوچنا ہی ہمارے رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔ اس سب کی وجہ سے جہاں دنیا کے مختلف ممالک کے افراد بے چینی ، بڑھتی مہنگائی اور بدامنی سے پریشانی دکھائی دے رہے تھے۔۔ وہیں پاکستان اور اس جیسے امن دوست ممالک بھی بے چین تھے جو خطے کو کسی بھی صورت آگ کی لپیٹ میں نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ ایسے میں پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کا ہاتھ بڑھوانا اور دونوں ممالک کو تاریخی امن مذاکرات کی میز پر لے کر آنا بھی کم نہیں تھا۔۔
اور اب ایک یہ وقت تھا کہ چند گھنٹوں پہلے تک ہر کوئی امن کے راستے کو اسلام آباد میں تلاش کررہا تھا۔
امریکی نائب صدر نے اکیس گھنٹوں کے مذاکرات کے بعد جہاں پاکستان کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔ وہیں یہ اقرار بھی کیا کہ پاکستان نے ڈیل پرپہنچنے کیلئے دونوں ممالک کی بہت مدد کی۔ انہوں نے اس دکھ کا اظہار ضرور کیا کہ حتمی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے لیکن مستقبل میں اچھی خبروں کی بھی امید کی ، جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ہم ایران کوبہترین آفردے کرواپس جارہے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں ایران ہماری پیشکش پرکیا جواب دیتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مذاکرات میں پاکستان کے کردارکوسراہا۔ ایرانی دفتر خارجہ نے پاکستان کی میزبانی اوربات چیت آگے بڑھانے کی کاوشوں پرشکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت اوربھائیوں کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ ہم بات چیت میں متعددنکات پراتفاق رائےپرپہنچ گئے۔۔ لیکن دو اہم امور پر رائے مختلف ہونے کی وجہ سے معاہدہ نہ ہو سکا۔
میرے خیال میں ایرانی دفتر خارجہ کا اشارہ نیوکلیئر پروگرام اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول سے متعلق تھا۔ کیونکہ ایرانی ذرائع سے یہ خبریں پہلے بھی سامنے آرہی تھیں کہ وہ آبنائے ہرمز کو امریکی کنٹرول پر آمادہ نہیں۔
ادھر پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ دونوں ملکوں نے وزیراعظم شہبازشریف کی درخواست پر مثبت ردعمل دیا۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان جامع اور تعمیری مذاکرات کے متعدد دور ہوئے۔ میں نے بطور نائب صدر اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مذاکراتی عمل میں معاونت کی۔ اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ امید ہے دونوں ملک خطے اور دنیا کےامن وخوشحالی کیلئے مثبت سوچ سے آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان مذاکراتی عمل میں سہولت کاری کا کردار جاری رکھے گا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ ضروری ہے کہ دونوں ملک سیز فائر جاری رکھنے کے عزم پرقائم رہیں۔
پاکستان نے ایک مرتبہ پھر مذاکراتی عمل میں شریک ایران اور امریکا کے وفود کا شکریہ ادا کیا۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے بھی کہا کہ فریقین کی طرف سےپاکستان کے مثبت کردار کے اعتراف پر شکرگزارہیں۔
میری رائے میں ابھی کچھ نہیں بگڑا۔۔ بلکہ یہ تکنیکی راہ نکالنے اور نکات کو مزید سمجھنے میں آسانی پیدا کرنے کا موقع ملا ہے۔ پاکستان ایک امن پسند ملک کے طور پر دنیا بھر میں ابھرا ہے۔ اور اس بات کو تقویت ملی ہے کہ پاکستان خطے میں تخریب کاری اور دہشت گردی کے خلاف نہ صرف مخالف آواز رکھتا ہے بلکہ اس نے اپنے عمل سے یہ بات ثابت کر دکھائی ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اس خطے کو عظیم سے عظیم تر بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گا۔
