ہم نیوز اسپیشل:زاہد گشکوری
پاکستان کا دارالحکومت اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے جب سے ایران امریکا جنگ شروع ہوئی ہے۔ اس وقت مختلف ممالک کے اعلیٰ حکام، خصوصاً امریکا اور ایران کے نمائندے، انتہائی اہم مذاکرات میں مصروف ہیں۔
بطور رپورٹر جو غیر ملکی تنازعات کو کور کرتا ہوں، میں نے یہ دیکھا کہ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد میں غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ یہ مذاکرات 40 روزہ تنازعے کے بعد ہو رہے ہیں، جس میں امریکا اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے کیے، جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
چونکہ پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے جنگ بندی کی درخواست کی اور بعد ازاں امریکا اور ایران کو اسلام آباد میں مذاکرات کی دعوت دی، اس لیے اسلام آباد میں مسلسل مختلف اہم واقعات پیش آ رہے ہیں۔ 112 سے زائد بین الاقوامی اور 234 مقامی صحافی ان مذاکرات کو کور کر رہے ہیں۔ مجموعی طور پر 217 حکام ایران، امریکا اور دیگر دوست ممالک سے یہاں موجود ہیں جو مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے خاتمے پر بات چیت کر رہے ہیں۔
میں نے پہلی بار یہ دیکھا کہ جب پاکستان کا صدر فوجی آمر نہیں ہے، اس وقت کوئی امریکی صدر یا نائب صدر پاکستان کا دورہ کرے۔ اس سے قبل چار امریکی صدور پاکستان آ چکے ہیں: جارج بش (2006)، بل کلنٹن (2000)، جب جنرل مشرف صدر تھے۔ 1969 میں یحییٰ خان کے دور میں رچرڈ نکسن آئے۔ 1967 اور 1959 میں ایوب خان کے دور میں لنڈن جانسن اور ڈوائٹ آئزن ہاور پاکستان آئے۔ امریکی نائب صدرجوبائیڈن بطور نائب صدر جنوری 2011 میں آئے جب آصف علی زرداری صدر تھے۔لیکن بائیڈن نے اسوقت تک امریکا کے نائب صدر کے طور پرحلف نہیں لیا تھا۔
بین الاقوامی ماہرین کے مطابق ایران امریکا جنگ نے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ مشرق وسطیٰ اور عالمی طاقت کے توازن کو بھی بدل دیا ہے۔ یہ صورتحال ایک خطرناک بحران کی طرف بڑھ رہی تھی۔ یہ نازک جنگ بندی ایسے وقت میں اسلام آباد میں ہو رہی ہے جب عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہوئی، تیل کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں، اور آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
پاکستان اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، تاہم اسے سفارتی سطح پر ایک اہم مقام بھی ملا ہے۔ اب امریکا اور ایران کے اعلیٰ وفود اسلام آباد میں موجود ہیں اور مستقل امن کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔
یہ پیش رفت اس دو ہفتے کی جنگ بندی کے فوراً بعد ہوئی ہے جو پاکستان کی ثالثی سے طے پائی تھی۔ تاہم اختلافات اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے باعث یہ جنگ بندی خطرے میں ہے۔
جب امریکا اور ایران اسلام آباد میں بیٹھے ہیں تو سوال یہ ہے کہ ایران کے خلیجی ممالک پر حملوں اور آبنائے ہرمز کی جزوی بندش کے بعد پاکستان کا کردار کیا ہے؟
میں نے گزشتہ تین دنوں میں مختلف ماہرین سے بات کر کے ان سوالات کے جوابات تلاش کیے۔ کسی کو یقین نہیں کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں گے یا نہیں، تاہم امیدیں بہت زیادہ ہیں۔
اگر یہ مذاکرات ناکام ہوتے ہیں اور پاکستان ایران کے ساتھ کسی تنازعے میں الجھتا ہے تو صورتحال انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے۔ پاکستان ہر محاذ پر جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے اسلام آباد ان مذاکرات کی کامیابی چاہتا ہے۔
پاکستان کو سعودی عرب، امریکا، ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان ایک منفرد اعتماد حاصل ہے۔ اس تناظر میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بھی ایک اہم کردار ادا کرنے والی شخصیت سمجھا جا رہا ہے۔
مذاکرات کب اور کہاں ہو رہے ہیں؟
امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان مذاکرات آج ہفتہ صبح اسلام آباد میں شروع ہوئے۔ یہ بات چیت رات دیر یا اتوار تک جاری رہ سکتی ہے، اور بعض ذرائع کے مطابق یہ کئی ہفتوں یا 30 دن سے زائد بھی چل سکتی ہے۔
کون شریک ہے؟
امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، ان کے ساتھ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔
ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں۔
اب تک کیا ہوا؟
وزیر اعظم شہباز شریف نے دونوں وفود سے علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار مذاکرات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی وفود سے ملاقاتیں کیں۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ دونوں فریق ایک ہی ہال میں بیٹھے ہیں یا پاکستان بطور ثالث پیغام رسانی کر رہا ہے۔
ایجنڈا کیا ہے؟
ذرائع کے مطابق ایران کا 10 نکاتی منصوبہ شامل ہے:
* آبنائے ہرمز کی نگرانی
* ایرانی اثاثوں کا منجمد ہونا ختم کرنا
* آزاد تجارت
* امریکی افواج کا انخلا
* اتحادی گروہوں کے خلاف کارروائی کا خاتمہ
امریکہ کی جانب سے مطالبات میں ایران کے یورینیم ذخائر کی پابندی شامل ہے، جو ایران کے لیے ناقابلِ قبول شرط ہے۔
مسائل اور پیش رفت
امریکا ایران کے جوہری پروگرام، اثاثوں کی منجمدی اور آبنائے ہرمز پر آزاد آمدورفت چاہتا ہے۔
اسرائیل اور امریکا ایران کے جوہری ہتھیاروں کے خدشے پر سخت مؤقف رکھتے ہیں، جبکہ ایران انکار کرتا ہے کہ اس کا ایسا کوئی ارادہ ہے۔
ممکنہ رکاوٹیں
ماہرین کے مطابق فوری معاہدے کے امکانات کم ہیں کیونکہ دونوں طرف گہرا عدم اعتماد موجود ہے۔ لبنان میں جاری کشیدگی بھی مذاکرات کو متاثر کر سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے اہمیت
پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار بیرون ملک کام کرنے والے 10 ملین سے زائد پاکستانیوں پر ہے، جن میں سے 80 فیصد مشرق وسطیٰ میں ہیں۔اگر جنگ پھیلتی ہے تو روزگار، ترسیلات زر اور معیشت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
پاکستان ایران گیس پائپ لائن جیسے منصوبوں سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔جنگ کی صورت میں مہاجرین کا بڑا سیلاب پاکستان آ سکتا ہے، جو ایک بڑا بحران ہوگا۔
عالمی توقعات
ماہرین کے مطابق سب سے بڑا نتیجہ یہ ہوگا کہ دونوں فریق مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ رہیں۔اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو یہ بڑی کامیابی ہوگی، تاہم مکمل امن معاہدہ ایک طویل عمل ہوگا۔
پاکستان کی سفارت کاری کو عالمی سطح پر ایک اہم کردار کے طور پر سراہا جا رہا ہے، کیونکہ اس نے ایک بڑے بحران کو جنگ میں بدلنے سے روکا۔
(زاہد گشکوری ہم نیوز کے ساتھ ایڈیٹرانویسٹی گیشن کے طور پرکام کررہے ہیں)
