واشنگٹن: امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے مقامات کھو بیٹھا ہے۔ جس کے باعث انہیں ہٹانے میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نہ صرف ان سرنگوں کا مکمل سراغ لگانے میں ناکام رہا ہے بلکہ ان کی صفائی کے لیے درکار جدید تکنیکی صلاحیت بھی محدود ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران نے جنگ کے آغاز پر چھوٹی کشتیوں کے ذریعے غیر منظم انداز میں بارودی سرنگیں بچھائیں۔ جس کے باعث اب یہ تعین کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ کون سی سرنگ کہاں موجود ہے۔ جبکہ سمندری بہاؤ سے ان کے مزید منتشر ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ان سرنگوں کی موجودگی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ اور یہی صورتحال اس اہم عالمی تجارتی گزرگاہ کی بحالی میں تاخیر کا سبب بن رہی ہے۔
واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حال ہی میں کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کو تکنیکی حدود کے پیش نظر مرحلہ وار کھولا جائے گا۔ جسے ماہرین کھوئی ہوئی سرنگوں کی نشاندہی میں مشکلات سے جوڑ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات: خطے میں امن کی امیدیں بڑھ گئیں، حماس کا خیرمقدم
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ بندی کے ذریعے آبنائے ہرمز کو جلد اور محفوظ انداز میں کھولا جا سکتا ہے۔ جبکہ اس معاملے کو اسلام آباد میں جاری امریکا ایران مذاکرات میں بھی کلیدی اہمیت حاصل ہے۔
