ایران کی اسٹریٹجک کونسل برائے خارجہ تعلقات کے سربراہ اور سابق وزیر خارجہ کمال خرازی شہید ہو گئے ہیں۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ امریکی اور اسرائیلی حملے میں زخمی ہوئے تھے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
ایرانی میڈیا سے منسوب اطلاعات کے مطابق 2 اپریل کو تہران میں ان کے گھر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کمال خرازی شدید زخمی ہو گئے جبکہ ان کی اہلیہ کی شہادت کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
اسرائیل کا غزہ جنگ بندی مرکز سے اسپین کو نکالنے کا اعلان
ذرائع کے مطابق انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زیر علاج رہے، تاہم بعد ازاں وہ جانبر نہ ہو سکے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کمال خرازی ایران کی خارجہ پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کرتے رہے اور وہ 1997 سے 2005 تک اصلاح پسند صدر محمد خاتمی کے دور میں وزیر خارجہ کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
اس وقت وہ ایران کی اعلیٰ قیادت کو خارجہ امور پر مشاورت فراہم کرنے والے ادارے کے سربراہ تھے۔
