وسطی چین کے صوبے ہیبی کے صدر مقام ووہان میں ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا جہاں 100 سے زائد ڈرائیور کے بغیر چلنے والی روبوٹیکسیز اچانک بند ہو گئیں، جس کے نتیجے میں متعدد مسافر گاڑیوں کے اندر پھنس کر رہ گئے۔
رپورٹس کے مطابق بعض مسافر تقریباً 90 منٹ تک ٹیکسیوں میں محصور رہے جبکہ کچھ افراد دروازے نہ کھلنے کے باعث شدید پریشانی کا شکار ہوئے۔ کئی مسافر بھاری ٹریفک کے باعث گاڑیوں سے باہر نکلنے سے بھی خوفزدہ رہے۔
ووہان میونسپل پبلک سیکیورٹی کے ٹریفک مینجمنٹ بیورو نے تصدیق کی کہ یہ تمام متاثرہ گاڑیاں ایک ہی کمپنی کی روبوٹیکسیز تھیں جو بیک وقت تکنیکی خرابی کا شکار ہوئیں۔
صارفین کیلئے بڑی خوشخبری ، واٹس ایپ نے نیا فیچر متعارف کرا دیا
ایک خاتون مسافر نے بتایا کہ وہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ گاڑی میں پھنسی رہیں اور بارہا کسٹمر سروس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، مگر ابتدائی طور پر کوئی مؤثر جواب نہ ملا۔
ان کے مطابق ہر بار یہی کہا جاتا رہا کہ ماہر ٹیم روانہ کی جا رہی ہے، تاہم مدد میں تاخیر نے خوف و اضطراب میں اضافہ کیا۔ بعد ازاں تمام متاثرہ مسافروں کو ریسکیو کر لیا گیا۔
ماہرین کے مطابق روبوٹیکسیز ایک مرکزی کنٹرول سسٹم کے تحت بھی کام کرتی ہیں، اس کے علاوہ ہر گاڑی میں الگ خودکار نظام موجود ہوتا ہے۔ اس واقعے نے ظاہر کیا کہ مرکزی سسٹم میں خرابی آنے کی صورت میں بیک وقت بڑی تعداد میں گاڑیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اگرچہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم اس نے ڈرائیور لیس ٹیکنالوجی کی حفاظت اور ہنگامی صورتحال میں ردعمل کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
