گرمیوں کے موسم میں ناک سے خون آنا ایک عام شکایت ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں درجہ حرارت زیادہ اور ہوا خشک ہوتی ہے۔
نکسیر دراصل ناک سے خون کے بہنے کی ایک کیفیت کا نام ہے، جو زیادہ تر صورتوں میں وقتی ہوتی ہے، تاہم بعض اوقات یہ کسی سنجیدہ بیماری کی علامت بھی بن سکتی ہے۔ اس لیے اس کی وجوہات، اثرات اور احتیاطی تدابیر کو سمجھنا ضروری ہے۔
مچھلی کے تیل کے کیپسول صحت کیلئے فائدہ مند ہیں یا نقصان دہ؟ نئی تحقیق
گرمیوں میں نکسیر کیوں ہوتی ہے؟
طبی ماہرین کے مطابق ناک کے اندر نہایت باریک خون کی نالیاں ہوتی ہیں جو سطح کے قریب ہوتی ہیں، اس لیے معمولی خشکی یا جلن سے بھی پھٹ سکتی ہیں

گرمیوں میں اس کی چند اہم وجوہات یہ ہیں:
- گرم اور خشک ہوا
گرمی کے موسم میں ہوا خشک ہو جاتی ہے جس سے ناک کے اندرونی حصے خشک ہو کر پھٹ جاتے ہیں اور خون بہنے لگتا ہے۔ - پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن)
زیادہ پسینہ آنے سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے، جس سے ناک کی جھلی خشک ہو جاتی ہے اور خون بہنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ - ایئر کنڈیشنر کا استعمال
اے سی کی خشک ہوا ناک کی نمی کم کر دیتی ہے، جس سے نکسیر کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ - الرجی اور سائنوس
گرمیوں میں پولن اور دھول کی وجہ سے الرجی بڑھتی ہے، جو ناک میں سوزش پیدا کر کے خون بہنے کا سبب بن سکتی ہے۔ - زیادہ گرمی کا اثر
شدید گرمی خون کی نالیوں کو پھیلا دیتی ہے، جس سے وہ آسانی سے پھٹ سکتی ہیں۔
مچھر بعض افراد کو زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ سائنسی وجوہات سامنے آگئیں
کیا نکسیر خطرناک ہوتی ہے؟
زیادہ تر کیسز میں ناک سے خون آنا خطرناک نہیں ہوتی اور خود ہی ٹھیک ہو جاتی ہے۔ یہ عام طور پر صرف ایک وقتی مسئلہ ہوتا ہے
تاہم درج ذیل حالات میں یہ خطرے کی علامت ہو سکتی ہے:
- بار بار نکسیر آنا
- بہت زیادہ خون بہنا
- چکر آنا یا کمزوری محسوس ہونا
- کسی بیماری (جیسے خون جمنے کے مسائل) کا شبہ
ایسی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
نکسیر کے ممکنہ اثرات
اگرچہ عام طور پر یہ سنجیدہ مسئلہ نہیں، لیکن اس کے کچھ اثرات ہو سکتے ہیں:
- بے چینی اور گھبراہٹ
- روزمرہ کاموں میں خلل
- شدید صورت میں کمزوری یا چکر
بچاؤ کے آسان طریقے
گرمیوں میں نکسیر سے بچنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر بہت مؤثر ثابت ہوتی ہیں:
نوجوانوں میں ذہنی امراض کی بنیادی وجہ کیا ہے؟ ماہرین نے بتادیا
- زیادہ پانی پینا
- ناک کو نم رکھنے کے لیے سیلائن اسپرے کا استعمال
- خشک ماحول سے بچنا یا ہیومیڈیفائر استعمال کرنا
- ناک میں انگلی ڈالنے یا زور سے صاف کرنے سے پرہیز
- دھول، دھوئیں اور الرجی سے بچاؤ
کب ڈاکٹر سے رجوع کریں؟
اگر درج ذیل علامات ہوں تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں:
- بار بار نکسیر ہونا
- خون زیادہ مقدار میں بہنا
- نکسیر رکنے میں دیر لگنا
- ساتھ میں چکر، کمزوری یا دیگر علامات ہونا
طبی ماہرین کے مطابق مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کر کے نہ صرف نکسیر سے بچا جا سکتا ہے بلکہ اس کے ممکنہ خطرات کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
