پنجاب، خیبرپختونخوا،بلوچستان، اسلام آباد،جی بی اورآزاد کشمیرمیں مارکیٹیں رات 8بجےبند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،خیبرپختونخوا کے ڈویژنل ہیڈکوارٹرزمیں بازاراورشاپنگ مالز رات9بجےتک کھلےرکھنے کی اجازت ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی زیرصدارت کفایت شعاری کےاقدامات سےمتعلق جائزہ اجلاس ہوا، جاری اعلامیہ کے مطابق مارکیٹوں کی جلد بندی کافیصلہ صوبائی حکومتوں کی مشاورت سےکیاگیا ہے۔
ہم سے چابیاں کھوگئی ہیں، ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کھولنے کے بیان پر ایران کا طنزیہ جواب
روزمرہ اشیا کی دکانیں، ڈیپارٹمنٹل اسٹورزاورمالزرات 8بجےبند کرنےکافیصلہ کیا گیا ہے ، بیکریاں، ریسٹورنٹ، تندوراورکھانےپینےکےمراکز رات10بجےبند ہوں گے۔
شادی ہالز،مارکیزاوردیگر کمرشل مقامات رات10بجےتک بندکرنےکاحکم دیا گیا ہے ۔نجی پراپرٹیزاورگھروں میں بھی رات 10بجےکےبعدشادی کی تقریبات پرپابندی ہوگی ،میڈیکل اسٹورزاورفارمیسیزکےاوقات کار ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے۔
اجلاس میں توانائی بچت کےحوالےسےکیےگئےفیصلوں کااطلاق7 اپریل سے ہوگا، بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ میں مارکیٹس کےاوقات کارکےحوالے سےمشاورت کاعمل جاری ہے۔پیٹرولیم سبسڈی ڈیجیٹل والٹس کےذریعےمنتقل کا عمل جاری ہے ،1لاکھ ٹرانزیکشنزمکمل ہوچکی ہیں۔
ایران کے انٹیلی جنس سربراہ سید مجید خادمی امریکی حملے میں شہید
اس موقع پر وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ قومی اہمیت کےحامل فیصلوں پروزرائےاعلیٰ کےتعاون پرشکریہ اداکرتےہیں،امیدہےوزیراعلیٰ سندھ بھی مشاورت کےبعدجلدفیصلوں کاحصہ بنیں گے۔
گلگت اورمظفرآباد میں ایک ماہ کیلئے انٹرا سٹی پبلک ٹرانسپورٹ مفت ہوگی،ٹرانسپورٹ کےتمام اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرےگی۔
