واشنگٹن: ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانی آواز میں چھپے باریک اشاروں کو شناخت کر کے مختلف بیماریوں خصوصاً گلے کے کینسر کی ابتدائی تشخیص میں مدد دے سکتی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ماہرین نے کہا ہے کہ گلے کا کینسر جسے وائس باکس کینسر بھی کہا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں ایک سنگین مرض ہے اور اکثر مریض دیر سے تشخیص کے باعث پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ موجودہ طریقے جیسے اینڈوسکوپی اور بایوپسی نہ صرف تکلیف دہ بلکہ ہر جگہ دستیاب بھی نہیں۔
امریکی ماہرین نے “بریج ٹو اے آئی وائس” منصوبے کے تحت ہزاروں آوازوں کا تجزیہ کیا۔ جس میں پچ، آواز کی شدت اور شور کے تناسب جیسے عوامل کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق مردوں میں آواز کے مخصوص پیٹرنز، خصوصاً ہارمونک ٹو نوائز ریشو اور پچ میں تبدیلیاں، گلے کے کینسر یا ابتدائی رسولیوں کی نشاندہی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، تاہم خواتین کے حوالے سے مزید تحقیق درکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اینڈرائیڈ کے نوٹیفکیشن سسٹم میں اہم اپ گریڈز متوقع
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی ایسے نظام کی بنیاد بن سکتی ہے۔ جو صرف آواز سن کر بیماریوں کی بروقت تشخیص ممکن بنائے گی۔ جس سے علاج کے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں گے۔
