اوپیک پلس نے مئی کے لیے تیل کی پیداوار کے کوٹے میں 2 لاکھ 6 ہزار بیرل یومیہ اضافے پر اتفاق کر لیا ہے۔
اوپیک پلس کے 8 رکن ممالک نے ورچوئل اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے اس اضافے کی منظوری دی اور کہا کہ وہ مارکیٹ پر مسلسل نظر رکھتے ہوئے استحکام برقرار رکھنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔
دوسری جانب خطے میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز عملی طور پر بند ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک کی تیل برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں، جو گزشتہ چار برس کی بلند ترین سطح ہے۔ الجزیرہ کے مطابق جاری جنگ کے باعث کئی ممالک کے لیے پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن نہیں، اس لیے یہ اضافہ زیادہ تر علامتی نوعیت کا ہے۔
سونے کی قیمت کم ہو گی یا بڑھے گی؟ بڑی کاروباری کمپنی کی پیشگوئی
ادھر جے پی مورگن نے خبردار کیا ہے کہ اگر مئی کے وسط تک ترسیل میں رکاوٹ برقرار رہی تو تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں، جس سے عالمی معیشت پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔
