امریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت جاری ہے، جس میں 45 روزہ جنگ بندی کو مستقل امن کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں میں کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ سفارتی کوشش خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ خطرناک تصادم کو روکنے کا شاید آخری موقع ثابت ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کے لیے ڈیڈ لائن دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بصورت دیگر شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
خطے کو امریکا اور اسرائیل کیلئے جہنم بنا دیں، ٹرمپ کی دھمکی پر ایران کا جواب
رپورٹس میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کی صورت میں خلیجی ممالک میں توانائی اور پانی کی تنصیبات خطرے میں پڑ سکتی ہیں، جس سے خطے کی سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
