ادارہ شماریات نے مہنگائی کے حوالے سے ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گیاہے۔
رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں مزید 1.01 فیصد اضافہ ہوا جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی بڑھنے کی شرح 9.12 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک ہفتے کے دوران 15 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں جبکہ صرف 9 اشیاء کی قیمتوں میں کمی آئی۔ سب سے زیادہ اضافہ ایل پی جی کے گھریلو سلنڈر کی قیمت میں دیکھا گیا جو 600 روپے مہنگا ہو کر 4500 سے بڑھ کر 5100 روپے کا ہو گیا۔
اسی طرح انڈے فی درجن 5 روپے سے زائد، چکن فی کلو 9.30 روپے اور مٹن 34.47 روپے فی کلو مہنگا ہوا۔ تازہ دودھ کی قیمت میں بھی ڈیڑھ روپے سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دال ماش، مسور اور مونگ کے علاوہ گڑ، چنے اور بیف بھی مہنگی ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں۔
دوسری جانب کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی۔ ٹماٹر 5.17 روپے فی کلو، لہسن 17.36 روپے فی کلو اور آلو 40 پیسے فی کلو سستے ہوئے۔
20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں بھی 20 روپے سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ جلانے کی لکڑی اور چینی کی قیمتوں میں معمولی کمی ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق چاول، بریڈ، خشک دودھ سمیت 27 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں، تاہم مجموعی طور پر مہنگائی کا دباؤ بدستور برقرار ہے۔
