پاکستان کے معروف اداکار و گلوکار علی ظفر نے گلوکارہ میشا شفیع کے جنسی ہراسانی کے الزامات پر مبنی ہتکِ عزت کیس جیتنے کے بعد خاموشی توڑ دی ہے۔
اداکار نے اپنے انسٹاگرام پر لکھا کہ انصاف بالآخر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف بالآخر ہو گیا ہے۔ مجھے کسی قسم کی فتح کا احساس نہیں، بلکہ صرف عاجزی اور شکرگزاری محسوس ہوتی ہے۔ میں کسی کے لیے دل میں کوئی منفی احساس نہیں رکھتا۔
خوشحال خان اور ماورا حسین پہلی بار ایک ساتھ، ڈرامہ “ونٹر لو” کا ٹیزر وائرل
Переглянути цей допис в Instagram
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تنازع نہ صرف ان کی پیشہ ورانہ زندگی بلکہ ان کے خاندان پر بھی اثر انداز ہوا۔ علی ظفر نے بتایا کہ وہ شروع دن سے خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے پُرعزم تھے۔
انہوں نے اللہ اور اُن تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا۔ ان کے مطابق انصاف کا حصول وقت لیتا ہے مگر بالآخر حق کی جیت ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے یہ باب اب بند ہو چکا ہے اور وہ دعا کرتے ہیں کہ سب آگے بڑھیں اور اپنے معاملات کو وقار اور امن کے ساتھ آگے لے جائیں۔
یاد رہے کہ یہ کیس میشا شفیع کی جانب سے لگائے گئے ہراسانی کے الزامات کے بعد شروع ہوا تھا، جس کے جواب میں علی ظفر نے ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ لاہور کی مقامی عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ سنایا، جو 2018 میں شروع ہونے والی می ٹو مہم کے تناظر میں خاص طور پر ہائی پروفائل رہا۔
مسٹر بیسٹ کا یوٹیوب چینل ڈیلیٹ کرنے کا اعلان, مداح پریشان
عدالت نے علی ظفر کے میشا شفیع کے خلاف ہتکِ عزت دعوے کا مختصر تحریری فیصلہ جاری کیا۔ ایڈیشنل سیشن جج نے دو صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ میشا شفیع کا 19 اپریل 2018 کو علی ظفر کے خلاف کیا گیا ٹوئٹ ہتک آمیز، غلط اور جھوٹا ثابت ہوا۔ عدالت نے قرار دیا کہ میشا شفیع کے علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات ثابت نہیں ہوئے۔ مزید کہا گیا کہ درخواست گزار عزتِ نفس مجروح ہونے، شہرت کو نقصان پہنچنے اور ذہنی اذیت کا شکار ہونے پر ہرجانے کا حق دار ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کی جانب سے کیے گئے 100 کروڑ ہرجانے کے مطالبے کو منظور نہیں کیا جا سکتا، تاہم میشا شفیع کو علی ظفر کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ میشا شفیع سوشل میڈیا یا کسی بھی پلیٹ فارم پر دوبارہ علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد نہیں کریں گی۔
فیصلے کے مطابق سی پی سی ترمیمی رولز کے تحت ہتکِ عزت کے دعوے کو عملدرآمد کارروائی میں تبدیل کیا جاتا ہے، اور رقم کی وصولی کے لیے فریقین 4 مئی کو عدالت میں پیش ہوں گے۔ ہتکِ عزت کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
میشا شفیع کا عدالتی فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کر نے کا اعلان
واضح رہے کہ میشا شفیع نے علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے، جبکہ علی ظفر نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا اور 100 کروڑ روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا۔
اس مقدمے میں مجموعی طور پر 283 پیشیاں ہوئیں، 20 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے اور سماعت کے دوران 8 سال میں 9 بار جج تبدیل ہوئے۔ بالآخر عدالت نے علی ظفر کے حق میں فیصلہ سنایا۔
یہ کیس پاکستان میں می ٹو تحریک کی ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آیا اور میڈیا میں طویل عرصے تک زیرِ بحث رہا۔ فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا، جہاں بعض صارفین نے اسے انصاف کی جیت قرار دیا جبکہ کچھ حلقوں نے اس پر سوالات بھی اٹھائے۔
