امریکا کے سب سے بڑے تارکین وطن حراستی مرکز میں درجنوں خلاف ورزیوں کے انکشاف نے زیرِ حراست افراد کے ساتھ سلوک پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹیکساس کے شہر ایل پاسو میں قائم “کیمپ ایسٹ مونٹانا” نامی حراستی مرکز میں ہونے والے معائنے کے دوران 49 خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ یہ معائنہ امریکی ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے دفتر نے فروری میں تین روز کے دوران کیا تھا، جس کی رپورٹ حال ہی میں جاری کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ خلاف ورزیوں میں سب سے زیادہ 22 کیسز طاقت کے استعمال اور ہتھکڑیوں جیسے اقدامات سے متعلق تھے، جبکہ 11 سکیورٹی اور کنٹرول کے نظام سے اور 5 طبی سہولیات سے متعلق تھے۔ ان خامیوں کو حراستی معیار، پالیسی یا طریقہ کار کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کے تحت حراستی مراکز پہلے ہی تنقید کی زد میں ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان پالیسیوں نے نہ صرف قانونی عمل اور آزادی اظہار کے اصولوں کو متاثر کیا بلکہ اقلیتوں کیلئے غیر محفوظ ماحول بھی پیدا کیا ہے۔
حراستی مراکز کی صورتحال پر مزید تشویش اس وقت پیدا ہوئی جب رواں سال کے ابتدائی تین ماہ میں کم از کم 14 تارکین وطن کی اموات رپورٹ ہوئیں، جن میں سے دو اموات اسی مرکز میں ہوئیں۔ یہ تعداد گزشتہ سال کی بلند ترین سطح کے بعد سامنے آئی ہے۔
امریکی رکن کانگریس ویرونیکا ایسکوبار نے اپنے دورے کے بعد بتایا کہ زیرِ حراست افراد کو خراب پینے کا پانی، باسی خوراک اور ناکافی طبی سہولیات کا سامنا ہے، جس سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خدشات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ انکشافات امریکا میں تارکین وطن کی پالیسی اور حراستی نظام پر جاری بحث کو مزید تیز کر سکتے ہیں، جبکہ حکومت ان اقدامات کو ملکی سلامتی اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف ضروری قرار دیتی ہے۔
