خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسہ کرے گی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت پر صوبے کے مالی اور آئینی حقوق نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ این ایف سی کے تحت صوبے کو 1375 ارب روپے ادا نہیں کیے جا رہے اور آئین کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ متعدد اجلاسوں میں خیبرپختونخوا اور پاکستانی عوام کا مقدمہ پیش کیا گیا، تاہم صوبے کو اس کا جائز حق نہیں دیا جا رہا۔
انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے مطابق وسائل کی تقسیم چاروں صوبوں میں ہونی چاہیے مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سابق فاٹا تاحال معاشی طور پر خیبرپختونخوا میں مکمل طور پر ضم نہیں ہو سکا اور متاثرہ علاقوں کے عوام کو بھی ان کے حقوق نہیں مل رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی آپریشنز کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کی مالی معاونت صوبائی حکومت اپنے وسائل سے کر رہی ہے اور اب تک اس مد میں 15 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ تباہ کن سیلاب سے خیبرپختونخوا کو اربوں روپے کا نقصان ہوا، تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی مالی مدد فراہم نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت محدود وسائل کے باوجود متاثرین کی بحالی اور امداد کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبے کے بجٹ میں بھی 20 سے 30 ارب روپے تک کٹوتی کی جا رہی ہے، جبکہ قومی پالیسیز تو بنا دی جاتی ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام معاملات اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں بھی اٹھائے گئے ہیں، جن میں سیاسی اور عسکری قیادت شریک تھی۔
