دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے 20 پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان امریکی قیادت کے ساتھ قریبی رابطے اور مسلسل سفارتی مشاورت میں مصروف ہے جب کہ ہماری ان سفارتی کوششوں کے خلاف بھارت کی جانب سے منفی پروپیگنڈا جاری ہے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے فعال سفارتکاری جاری رکھی، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے سے متعلق مختلف سطحوں پر بات چیت بھی ہوئی۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اس موقع پر مسلم دنیا کے اتحاد کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ چار ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسلام آباد میں مذاکراتی عمل کی حمایت کی۔
ترجمان کے مطابق گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ہوا، جو چار فریقی مذاکرات کا دوسرا دور تھا۔ اس سے قبل ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسحاق ڈار سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں، جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ان کی ملاقاتیں ہوئیں جن میں علاقائی صورتحال اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے 20 پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی ہے، جسے پاکستان نے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے اور اس اقدام کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ اسحاق ڈار نے حالیہ دورہ چین کے دوران چینی وزیر خارجہ سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک نے ایران امریکا تنازع کے حل کے لیے پانچ نکاتی ایجنڈا بھی جاری کیا۔
افغانستان کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات چین کے شہر ارومچی میں جاری ہیں، پاکستانی وفد وہاں موجود ہے اور بات چیت کا مقصد افغانستان کی سرزمین سے دہشتگردی کا خاتمہ یقینی بنانا ہے۔ پاکستان نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہشتگرد عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات کریں۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ مذاکرات کا حامی رہا ہے اور افغانستان کے معاملے پر چین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
حریف زمینی آپریشن کرنے کی کوشش کریں تو کوئی دشمن فوجی زندہ نہیں بچنا چاہیے، ایرانی آرمی چیف
انہوں نے آخر میں خبردار کیا کہ ایران امریکا تنازع کے دوران پاکستان کی سفارتی کوششوں کے حوالے سے بھارت سے منسلک فیک نیوز پھیلائی جا رہی ہے، حتیٰ کہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے بیان کو بھی غلط انداز میں پیش کیا گیا، جس کی بعد میں ایران کی جانب سے تردید کی گئی۔ عوام سے اپیل ہے کہ ایسی گمراہ کن معلومات سے محتاط رہیں۔
