امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے حملوں کے باعث بڑی تعداد میں امریکی فوجی خطے بھر میں ہوٹلوں اور دفتری عمارتوں میں منتقل ہو گئے۔
اخبار کے مطابق اس صورتحال کے بعد زمینی فوج کا بڑا حصہ عملی طور پر ریموٹ انداز میں جنگ لڑ رہا ہے ، صرف لڑاکا طیاروں کے پائلٹس اور طیاروں کی دیکھ بھال کرنے والا عملہ فوجی اڈوں پر موجود ہے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے امریکی فوجیوں کی تلاش کیلیے عوام سے ان کے نئے مقامات کی اطلاع دینے کی اپیل کی ہے۔
جنگ میں 800 امریکی ہلاک ہوئے ، مطالبات پورے ہونے تک امریکا کو جانے نہیں دینگے ، ایرانی فوج
نیویارک ٹائمز کے مطابق فوجیوں کو عارضی جگہوں پر منتقل کرنے سے ٹرمپ انتظامیہ کی جنگی تیاریوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
خطے میں امریکی فوج کے زیر استعمال 13 فوجی اڈوں میں سے اکثر اب قابلِ رہائش نہیں رہے، کویت میں واقع اڈوں کو شاید سب سے زیادہ نقصان پہنچا۔ کویت کے پورٹ شویبہ پر ایرانی حملے میں امریکی فوج کے ٹیکٹیکل آپریشنز سینٹر کو تباہ کیا گیا جس میں 6 امریکی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
قطر میں ایران نے العدید ائیر بیس جو امریکی سینٹرل کمانڈ کا علاقائی فضائی ہیڈ کوارٹر ہے، کو نشانہ بنایا جس سے ارلی وارننگ ریڈار سسٹم متاثر ہوا۔
روس ایران کو ڈرون، دوائیاں اور خوراک بھیج رہا ہے، برطانوی اخبار کا دعویٰ
بحرین میں ایرانی ڈرون نے امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر میں مواصلاتی آلات کو نشانہ بنایا۔ سعودی عرب کے پرنس سلطان ائیر بیس پر بھی ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے مواصلاتی نظام اور کئی ری فیولنگ ٹینکرز کو نقصان پہنچایا۔ عراق میں ایران نواز ملیشیا نے اربیل کے ایک پر تعیش ہوٹل پر ڈرونز سے حملہ کیا۔
