امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم پاکستان کی ایک بار پھر تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان نہایت بھلے آدمی ہیں ،انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے وہ رکوایا جو 1 کروڑ جانوں کےضیاع کی وجہ بنتا۔
کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کی جنگ سے بہت سی جانیں جاتیں ، وہ دونوں جوہری ممالک ہیں ،یہ بہت مشکل تھا لیکن میں نے کر دکھایا۔
ایران بات کر رہا ہے اور معاہدہ چاہتا ہے مگر ردعمل کے خوف سے خاموش ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
ایران معاہدے کیلئے بھیک مانگ رہا ہے ، میں نہیں ،ایران کی فوجی صلاحیت کو ختم کردیاہے،ایرانی ڈرونز،نیوی اور فضائیہ کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے،امریکا نے ایران کے ریڈار سسٹم کوبھی مکمل طور پر تباہ کردیا۔
ایران اب امریکا کے ساتھ ڈیل چاہتاہے،مجھے یقین نہیں کہ ہم ایران سے معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں،ایران نے سعودی عرب ، کویت ، قطر اور یو اے ای سمیت 5 ممالک پر حملہ کیا ،ایران کے حکام بہت ہوشیار ہیں، وہ بہترین مذاکرات کار ہیں۔
ایران جنگ سے پریشان ہوکر خلیجی ممالک کو نشانہ بنارہاہے،ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے فضائی حملے کیے گئےہیں،ایران کی اعلیٰ قیادت میں اب کوئی بھی نہیں رہا۔
نیٹو میں سے کوئی ہمیں ریسکیو کرنے نہیں آیا ، اب وہ کہتے ہیں ہم جہاز بھیجنا چاہتے ہیں ،تخمینہ لگایا ہے کہ ایران میں اپنا مشن مکمل کرنے کیلئے 4 سے 6 ہفتے لگیں گے ،ہم نے ایران کے 154 جہاز تباہ کیے ہیں۔
ایران کیخلاف جنگ میں نیٹو ممالک نےکوئی مدد نہیں کی، ٹرمپ
ایران کے پاس اب ڈیل کرنے کا موقع ہے لیکن یہ ان پر منحصر ہے ،ان کے پاس بارودی سرنگیں بچھانے والے 22 جہاز تھے ،دیکھتے ہیں دوران مذاکرات ایران آبنائے ہرمز کھول کر درست معاہدہ کرتے ہیں کہ نہیں۔
ایران کے پاس موقع ہے اپنا نیوکلیئر پروگرام ہمیشہ کیلئے ترک کر کے آگے بڑھنے کا ،ایران نے ایسا نہ کیا تو یہ ان کیلئے ڈراونا خواب بن جائے گا ۔
امریکا کے مقابلے میں برطانیہ کے طیارہ بردار جہاز کھلونا ہیں۔برطانیہ ایران جنگ میں نہیں آنا چاہتا، امریکا بھی ان کی جنگ میں نہیں جائے گا،ایران کو یا تو معاہدہ کرنا ہوگا یا پھر مسلسل امریکی حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ ایک ٹیسٹ تھا لیکن نیٹو کے رکن ممالک نہیں آئے ،ہمیں کسی کی ضرورت نہیں ،ایران کے سپریم لیڈر اب نہیں رہے ،ایران مشرق وسطیٰ پر قبضہ کر لیتا لیکن ہم آگے بڑھے اور اسے یہ کرنے سے روکا۔
اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکی صدر کا سب سے اہم فرض امریکی شہریوں کی حفاظت ہے ،ایران 47 سالوں سے دنیا میں امریکی شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے ،ایران کے میزائل پروگرام کو نشانہ بنا رہے ہیں ، فیکٹریاں تباہ کر رہے ہیں ،جلد ہی ایران میں اپنے تمام اہداف مکمل کر لیں گے۔
ایران معاملے پر ٹرمپ اور نیتن یاہو میں اختلافات، اسرائیلی تجویز کو خطرناک قرار دے دیا گیا
امریکی وزیر دفاع کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ ایران میں 10 ہزار اہداف تباہ کیے ہیں ،ہم ایران کے ہتھیاروں والے بنکرز تباہ کر رہے ہیں ،صدر ٹرمپ نے کہا ایران کے 154 جہاز تباہ کر دیے ، سمندر میں ڈوب چکے ہیں۔
اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ سفارتکاری میں مصروف ہیں ، صدر ٹرمپ نے مجھے اور جیرڈ کشنر کو ایران کے ساتھ مذاکرات کا فریضہ سونپا ،ایران سے کہا اپنا نیوکلیئر پروگرام ترک کریں ،ایران نے جواب دیا یورینیم افزودگی ان کا حق ہے۔
ایرانیوں نے مذاکرات کے دوران امریکی درخواستوں کو بارہا مسترد کر دیا،ایرانیوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ انہیں یورینیم کی افزودگی کا حق حاصل ہے،ہم نے ایران کے سامنے ایک 15 نکاتی ایکشن لسٹ پیش کر دی ہے،پاکستان کی حکومت کے ذریعے تجاویز ایران تک پہنچائیں ۔
ٹرمپ ایران پر پہلے سے کہیں زیادہ سخت حملہ کرنے کیلئے تیار ہیں، وائٹ ہاؤس
قوی اشارے موجود ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے امکان ہیں،ہم نے ایران کو آخری بار پیغام پہنچا دیا کہ غلط فہمی سے دور رہیں ،ایران اس جنگ اور تنازع سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا ہے۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کی نیوی ختم ہو چکی ہے۔
